لیاری گینگ کا مبینہ شوٹر پولیس کارروائی میں ہلاک، ساتھی فرار
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:پاک کالونی میں پولیس اور وفاقی حساس اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران لیاری گینگ سے تعلق رکھنے والا مبینہ شوٹر ہلاک ہو گیا۔
ایس ایس پی ضلع کیماڑی امجد احمد شیخ کے مطابق کارروائی کے دوران ملزمان نے پولیس پر شدید فائرنگ کی، جس کے بعد پرانا گولیمار کے قریب اضافی نفری طلب کی گئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ملزم ہلاک ہوا جبکہ اس کے ساتھی فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ہلاک ملزم کی شناخت صالح محمد عرف صوالی کے نام سے کی گئی، جو لیاری گروہ کا مبینہ شوٹر اور بھتہ خور جمیل جدگال کا اہم کارندہ تھا، یہ ملزم قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت متعدد سنگین جرائم میں مطلوب تھا اور اس پر آٹھ سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔
ایس ایس پی امجد احمد شیخ نے بتایا کہ ہلاک ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور گولیاں برآمد کر لی گئی ہیں، اس کے مجرمانہ ریکارڈ کی مزید تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں اور فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔