حکومت نے قیمتوں میں بڑا اضافہ کر کے عوام پر نیا بوجھ ڈال دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:پاکستان میں حکومت کی جانب سے ریلیف اور معاشی استحکام کے دعووں کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا گیا ہے جس نے عوامی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 32 پیسے مہنگا ہو کر 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی اخراجات بڑھنے کے باعث کیا گیا۔
شہریوں کاکہنا ہے کہ حکومت مسلسل مہنگائی کم کرنے کے بیانات دیتی رہی ہے مگر عملی طور پر عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی مقامات پر شہریوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے ہی بجلی، گیس اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، ایسے میں پیٹرول مہنگا ہونے سے روزمرہ زندگی کے اخراجات مزید بڑھ جائیں گے۔
ٹرانسپورٹرز اور مزدور طبقے کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے سے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے جس کا براہ راست اثر عام مسافروں پر پڑتا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام کے لیے مشکل فیصلے ضروری ہوتے ہیں، عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے مسلسل بوجھ نے ان کی قوتِ خرید کو شدید متاثر کر دیا ہے اور اب فوری ریلیف اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قیمتوں میں
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔