ٹیکس نظام، محصولات کی دوڑ یاپائیدار معاشی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
کراچی:
پاکستان کا ٹیکس نظام ایک بار پھر اہم موڑ پرکھڑا ہے جہاں حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا فوری محصولات کے حصول کو ترجیح دی جائے یا طویل مدتی معاشی استحکام کیلیے ٹیکس بنیاد کو وسعت دی جائے۔
ماہرین کے مطابق دہائیوں سے ملک کی معاشی پالیسی مالی دباؤ، قرض دہندگان کے اثرورسوخ اور محصولات کے اہداف کے گرد گھومتی رہی ہے، جبکہ بنیادی اصلاحات کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں سپرٹیکس سے متعلق مختصر عدالتی حکم کے بعد ٹیکس حکام کی جانب سے فوری ریکوری نوٹسزکے اجرا نے کاروباری حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے، پاکستان کا ٹیکس نظام بنیادی طور پر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔
براہِ راست ٹیکس میں انکم ٹیکس شامل ہے، جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں۔
مزید پڑھیںٹیکس دہندگان کا ڈیٹا ظاہر کرنے سے متعلق پاکستان انفارمیشن کمیشن کے احکامات معطل
تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے جانیوالے انکم ٹیکس میں اضافہ
سینیٹ خزانہ کمیٹی کا اہم اجلاس: ایف بی آر کے ٹیکس میسجز، سپر ٹیکس اور اصلاحات سے متعلق امور پر غور
ماہرین کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس بھی بڑی حد تک ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کے ذریعے وصول کیا جاتا ہے، جس کے باعث حقیقی معنوں میں براہِ راست ٹیکس نیٹ محدود رہتا ہے۔
مالی سال 2024-25 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح تقریباً 10.
ماہرین کے مطابق ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور زرعی شعبے کے بڑے حصے بدستور ٹیکس نظام سے باہر ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقہ نسبتاً زیادہ بوجھ برداشت کر رہا ہے، ایف بی آر کو محصولات کے سخت اہداف دیے جاتے ہیں، جس کے باعث نفاذ پر زور بڑھ جاتا ہے۔
ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو محض شرحوں میں اضافے یا سخت نفاذ کے بجائے نظامی اصلاحات، ٹیکس نظام میں توسیع، رضاکارانہ رجسٹریشن کے فروغ اور ادارہ جاتی اعتماد کی بحالی پر توجہ دینا ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکس نظام
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔