data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260216-01-19
لاہور/سکھر /راولپنڈی/جیکب آباد/حیدرآباد( نمائندگان جسارت)کراچی میں پر امن دھرنا کے مظاہرین پر شیلنگ ، ظالمانہ تشدد اور سندھ حکومت کی فسطائیت کے خلاف وفاقی دارالحکومت اسلام آباداور چاروں صوبائی دارا لحکومتوں کراچی ، لاہور،پشاور اور کوئٹہ سمیت مظفر آباد گلگت بلستان اور ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں جماعت اسلامی نے احتجاجی مظاہرے کئے۔مظاہرین نے سندھ حکومت کے بہیمانہ ظلم اور پولیس گردی کی شدید مذمت کرتے حکومت اور سندھ پولیس کے خلاف زبر دست نعرے بازی کی ۔مظاہروں میں عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔مظاہرین نے جما عت اسلامی کے پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے خلاف نعرے درج تھے ۔لاہور میں احتجاجی مظاہرے کی قیادت نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، امیر حلقہ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ اوراظہر بلال نے کی ۔ لیاقت بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہری اپنے بنیادی حقوق اور بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر نکلے تھے، مگر ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کا انتظامی ڈھانچہ عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام ہو چکا ہے اور مسائل کے حل کے بجائے آواز اٹھانے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ہر سطح پر کراچی کے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور آئینی و جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا آئینی اور قانونی حق ہے، جسے طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پرامن دھرنے کے شرکاء پر مبینہ پولیس تشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جاتا ہے اور طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی ۔ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور اظہر بلال نے کہا کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اور وہاں کے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شہری اپنے حقوق کے لیے نکلتے ہیں تو انہیں تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے، نہ کہ ان پر مقدمات قائم کیے جائیں۔انہوں نے کارکنان پر زور دیا کہ وہ منظم اور پُرامن انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں اور جمہوری طریقے سے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں۔ امیر جنوبی لاہور مرزا عبدالرشید نے کہا کہ کراچی کے عوام طویل عرصے سے بلدیاتی مسائل، پانی کی قلت، ٹوٹی سڑکوں اور دیگر شہری مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کے بجائے طاقت کا استعمال قابل افسوس ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کی ایک پُرامن، جمہوریت پسند جماعت ہے جو آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوامی حقوق کی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔کراچی میں مظاہرین پر تشدد کے خلاف ہزارہ میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیاجس سے امیر صوبہ عبدالرزاق عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش جمہوری اقدار کے منافی ہے۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ حکومت کا طرزِ عمل آمرانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے اور پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں عوامی آواز کو دبانے کی روایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔امیر صوبہ نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن، آئینی اور جمہوری جماعت ہے جو ہر سطح پر عوام کے حق، انصاف اور آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوامی مسائل کو حل کرنے کے بجائے آواز دبانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر میں احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے سندھ حکومت کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی اور کراچی کے مظلوم اساتذہ اور کارکنان سے اظہارِ یکجہتی کیا۔ سندھ اسمبلی پر دھرنے کے شرکاء پرتشدد وگرفتاریوںکیخلاف بدین،دادو،سکھر،جیکب آباد، گھوٹکی، لاڑکانہ، شکارپور، کندھکوٹ، نوشہرو فیرو، ٹنڈوالہیار،ٹھٹھہ ،کوٹری،ٹنڈومحمد خان سمیت سندھ بھرمیں احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔تشدد گرفتاریاں انسانی حقوق کی پامالی اورپیپلزپارٹی کی بدترین فسطائیت ہے ، ممتازحسین سہتو،حافظ نصراللہ چنا، حزب اللہ جکھرو،الطاف ملاح،امداداللہ بجارانی، زبیرحفیظ ،علی مردان شاہ،موسیٰ ببر ، مولانا عمر ودیگر رہنمائوں کا احتجاجی مظاہروں سے خطاب کیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے تحت بلدیاتی مسائل کے حل اور اپنے جائزحقوق کے حصول کے لیے سندھ اسمبلی پرجینے دوکراچی کو دھرنے کے شرکائے کوروکنے پولیس تشدد شیلنگ اورگرفتاریوں کے خلاف امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی اپیل پرسندھ کے مختلف شہروں سکھر،دادو، جیکب آباد،،گھوٹکی،لاڑکانہ،شکارپور،کندھکوٹ،نوشہروفیروز،ٹنڈوالہیار،ٹھٹھہ ،کوٹری،ٹنڈومحمد خان اورنواب شاہ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے،شرکائنے کراچی کو جینے دو کراچی کو پانی بجلی دو ، کراچی کو اپنا حق دو اورسندھ حکومت کے آمرانہ اقدامات کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے اپنے خطاب میں دھرنے کے شرکائپرپولیس تشد کی سخت مذمت اورحقوق انسانی شدید پامالی قراردیتے ہوئے کہاکہ مرادعلی شاہ کی قیادت میں پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے پرامن شہریوں پر ریاستی دہشگردی، گرفتاریاں اورتشدد فسطائیت کا مظاہرہ کرکے دور آمریت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح کے اوچھے ہتکنڈوں سے جماعت اسلامی کے کارکنان کو ڈریا دھمکایا اوردبایا نہیں جاسکتا۔شہری مسائل کے حل اورعوامی حقوق کے لیے کراچی تاکشمورجماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی۔نوشہروفیروزمیں مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری ممتازحسین سہتو،امیرضلع نعیم کمبوہ،کندھکوٹ پریس کلب پراحتجاجی مظاہرے سے صوبائی نائب امیر حافظ نصراللہ چنا امیرضلع غلام مصطفیٰ میرانی،سکھرمیں پریس کلب پر مظاہرے سے ڈپٹی جنرل سیکرٹری علامہ حزب اللہ جکھرو،سلطان لاشاری،،شکارپور میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری امداداللہ بجارانی،ٹنڈومحمد خان میں ڈپٹی جنرل سیکرٹری الطاف ملاح، بدین پریس کلب پرمظاہرے سے امیرضلع علی مردان شاہ گیلانی،دادو میں امیرضلع محمدموسیٰ ببر، کوٹری میں امیرضلع محمد عمر،ٹنڈوالہیارمیں امیرضلع آصف یاسین،رائوجاویدخان نے بھی خطاب کیا۔امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم نے جماعت اسلامی مری کے زیر اہتمام کراچی کے واقعہ پر اسلام آبادمیں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی امیر ضلع غلام احمد عباسی دیگر قائدین شریک ہوئے۔ ڈاکٹر طارق سلیم نے کہا کراچی کے حقوق کی بات کرنے،بنیادی ضرورتوں کا مطالبہ کرنے والے پر نہتے عوام اور کارکنان پر لاٹھی چارج، شیلنگ، تشدد، گرفتاریوں، کی شدید مذمت کرتے ہوئے سندھ حکومت اور قبضہ میئر کو خبردار کرتے ہوے کہا پولیس گردی فسطائیت کا مقابلہ ہم پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔کراچی کا احتجاجی پورے ملک میں پھیل گیا ہے ہم کراچی کے شہر یوں کیساتھ ہیں۔فیصل آباد میں بھی احتجاجی مظاہرہ میں زون پی پی 112 اور پریم یونین کے کارکنان نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرے کی قیادت زونل امیر محمد آصف اسلام، قیم زون و چیف آرگنائزر پریم یونین خالد محمود چوہدری، زونل صدر ظہیرالدین بابر، باؤ طاہر، سید ریاض حسین شاہ، کرامت علی اور شیخ محمد اسماعیل نے کی۔مقررین نے کراچی میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی اور اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ اسمبلی پر جماعت اسلامی کا پر امن احتجاج، نہتے کارکنوں پر پولیس کے وحشیانہ تشدد لاٹھی چارج و شیلنگ، درجنوں کارکنان کی گرفتاری کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک گیر یوم احتجاج منایا گیا جبکہ کراچی میں شہر کی 10مرکزی شاہرائوں پر احتجاجی دھرنے دیے گئے ، شرکاء نے پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی بدترین فسطائیت ، حکومتی طاقت کے غلط استعمال ،کراچی دشمنی اور جمہوریت کش رویے کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ کراچی کو حق اور با اختیارشہری حکومت دی جائے ، گرفتار کارکنوں کو فی الفور رہا اور دہشت گردی کے مقدما ت ختم کیے جائیں ، شرکاء نے پر جوش نعرے بھی لگائے جن میں’’ لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں چلے گی، غنڈہ گردی کی سرکارنہیں چلے گی،نہیں چلے گی ،تیز ہو تیز ہو جدوجہد تیز ہو، گلیوں اور چوراہوںپر جدوجہد تیز ہو‘‘ سمیت دیگر نعرے شامل تھے ۔احتجاجی دھرنے شاہراہ پاکستان،سپرہائی وے، نیشنل ہائی وے،شاہراہ اورنگی،شاہراہ کورنگی(کراسنگ)،حب ریورروڈ (شیرشاہ)،داؤدچورنگی، لی مارکیٹ،شاہراہ شیرشاہ سوری روڈ،جوہر موڑ راشد منہاس روڈ پر دیے گئے ۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے لسبیلہ چوک پر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی دشمن پارٹی ہے اور اسٹبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم بنی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی اہل کراچی کے حقوق غصب کیے بیٹھی ہے اور کراچی کے اداروں اور وسائل پر قابض ہے ، پیپلز پارٹی کی جمہوریت یہ ہے کہ ایک جانب کچے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی اور دوسری جانب اہل کراچی کے حق کے لیے نکلنے والوں کے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر درج کر رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے کراچی کو حق دینے اور عوام کو جینے دو کی بات کی تھی لیکن پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی ایماء پر پر امن اور نہتے کارکنوں پر وحشیانہ تشدد کیا گیا ، لاٹھیاں برسائی گئی اور شیلنگ کی گئی ،پیپلز پارٹی کی 18سالہ حکومت نے اہل کراچی سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے لیکن ہمارا عزم ہے کہ مزاحمت اور جدو جہد کسی صورت نہیں رکے گی۔ ہم کراچی کو میٹرو پولیٹن سٹی حکومت دینا اورعوام کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی عوامی جدو جہد اور مزاحمت حکومت کوگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم یہ منتخب نمائندوں کو اختیارات دینے سے ڈرتے ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی فرینڈلی اپوزیشن کرتی ہیں اور بلدیاتی و سیاسی اختیارات دینے کے لیے کوئی تیار نہیں ۔ حکمران کراچی کو بجلی، پانی،سڑکیں اور ٹرانسپورٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ 21 سال ہوگئے کے فور منصوبہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ کراچی کا 50 فیصد علاقہ پانی سے محروم ہے۔ گزشتہ سال 3256 ارب روپے کراچی نے ٹیکس کی مد میں جمع کروائے لیکن عوام کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔احتجاجی دھرنے سے نائب امیر کراچی مسلم پرویز، امیر ضلع قائدین انجینئر عبد العزیز، امیر ضلع وسطی سید وجیہ حسن،سکریٹری ضلع قائدین نعمان حمیدودیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جنید مکاتی، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ، ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات صہیب احمد ودیگر بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں شہر کے دیگر مقامات پر دیے جانے والوں دھرنوں سے امرائے اضلاع و دیگر ذمہ داران نے خطاب کیا ۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر میں مختلف شہروںمیں ہونے والے احتجاجی مظاہروںکی تصویری جھلکیاں

نمائندہ جسارت سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی ڈپٹی جنرل سیکرٹری کہ جماعت اسلامی انہوں نے کہا کہ احتجاجی مظاہرے پیپلز پارٹی کی مسائل کے حل کے کی شدید مذمت کہا کہ کراچی نہیں چلے گی سندھ حکومت کرتے ہوئے کراچی میں ہوئے کہا دبانے کی کراچی کے کی قیادت کراچی کو خطاب کیا دھرنے کے طاقت کے نے والے کے خلاف تیز ہو کے لیے ہے اور کیا کہ

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں