Jasarat News:
2026-06-02@20:43:47 GMT

کشمیر!!! یک جہتی کا نازک موڑ؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260216-03-6
کشمیری عوام سے پاکستان کے حکمران طبقات کی یک جہتی اس نازک موڑ کی طرح جامد ہو کر رہ گئی ہے جس سے آگے نکلنے اور چلنے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آتی۔ گزشتہ برس کے پاکستان اور بھارت کے ہلکے پھلکے تصادم جسے بھارتی آپریشن سندور اور ہم آپریشن بنیان مرصوص کہتے ہیں کے بعد پانچ فروری کو پہلا یوم یکجہتی منایا گیا۔ اس تصادم کے ہم نے کئی خوبصورت نام اور عنوان رکھے ہیں جن میں ایک معرکہ حق بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس تصادم کے بعد پاکستان کا وقار عالمی سطح پر بلند ہوا۔ ٹرمپ تسلسل کے ساتھ پاکستان کی کامیابی اور فتوحات بھارتی جہازوں کی تعداد بڑھا کر اور ان جہازوں کے گرائے جانے کی بات کر کے پاکستان کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور اس کے وقار میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ یوں نائن الیون کے بعد پاکستان کو جن مغربی قوتوں نے طاقتور مغربی میڈیا کے ذریعے دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر بدنامی کا اشتہار بنا دیا تھا اب اسی مغرب میں پاکستان کی فتوحات کے ترانے گائے جا رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ اب بھارت اور امریکا کی تجارتی ڈیل ہوگئی ہے اور مودی اور ٹرمپ نے ایک دوسرے کے لیے ’’میرے دوست‘‘ کے الفاظ استعمال کرکے بے پناہ اپنائیت کا اظہار کیا ہے۔ اب شاید ٹرمپ پاکستان کی فتوحات کا تذکرہ اگر مکمل طور پر بند نہیں کرے گا مگر وہ اس کے تسلسل میں کمی لائے گا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی کتاب اسی اْتار چڑھاؤ سے بھری پڑی ہے۔ سیٹو اور سینٹو معاہدوں کی بات تو پرانی ہے۔ بڈھ بیر پشاور پر میزائل حملوں کی سوویت یونین کی دھمکی بھی اسی کہانی کا ایک موڑ ہے۔ ساتویں بحری بیڑے کی حرکت تیزتر اور سفر آہستہ آہستہ بھی اسی تاریخ کا حصہ ہے۔ پاکستان کے دوبازوؤں کا اتحاد خلیج بنگال میں ڈوب گیا مگر یہ بحری بیڑہ حرکت پزیر ہی رہا۔ نائن الیون کے وقت بھی امریکا نے پاکستان کی کلائی مروڑنے اور شمسی ائر بیس اور دوسرے اڈے حاصل کرنے کے لیے پہلے بھارت سے حیدر آباد کے ہوائی اڈے مانگے۔ بھارت نے اڈے تو نہ دیے مگر پاکستان کے حکمرانوں نے اس پیشکش سے خوف زدہ ہوکر اپنی ائر بیسز امریکا کے حوالے کر دیں۔ اس طرح بھارت نے امریکا کی طرف سے پاکستانی ائر بیسز حاصل کرنے میں اس کی بالواسطہ مدد کی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہو گئی۔ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند ہوگیا۔ سبز پاسپورٹ کی نائن الیون کے بعد کھوئی ہوئی قدر ومنزلت بحال ہوگئی۔ اب مغربی دنیا میں قائم موافق فضا اور خوش گوار تعلقات کا کشمیر کو کیا فائدہ ہوا؟ یہ سوال اب بھی باقی ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بدستور بھارت کے محاصر ے میں ہیں۔ ان سے جینے تو کیا سانس لینے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ ان کی تہذیب ثقافت اور دینی شناخت سب کچھ ہندوتوا ذہنیت کی یلغار کی زد میں ہے۔ بھارت پوری طرح کشمیر میں فلسطین ماڈل اپنائے ہوئے ہے۔ اس منظر میں اتنی تبدیلی بھی نہیں آرہی کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کسی بامعنی بات چیت پر آمادہ ہو۔ حتیٰ کہ مودی اس پیس پروسیس کو شروع کرنے پر بھی تیار نہیں جس کا آغاز انہی کے فکری راہنما اٹل بہاری واجپائی نے امریکی دباؤ اور ترغیب پر کیا تھا۔ جس کے نتیجے میں کشمیر کی زمین پر تو کوئی ریلیف نظر نہیں آیا تھا مگر دوطرفہ رابطوں کے ذریعے کشمیریوں کے لیے امید اور امکان کی ایک کھڑکی کھلی تھی۔ حالیہ جنگ سے پہلے جو کشمیری جیلوں میں پڑے تھے وہ وہیں سڑھ رہے ہیں جو جیلوں سے باہر بھی مقید اور محصور تھے وہ اسی حالت میں ہیں۔ ان سے جو آزادیاں چھن گئی تھیں ان کی بحالی اور واپسی کا دور دور تک کوئی امکان نہیں رہا۔ بین الاقوامی میڈیا کشمیر پر لب کشائی سے گریز جاری رکھے ہوئے ہے۔ کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کو بیان کرنے کے لیے مغرب میں کوئی آواز نہیں اْٹھ رہی۔ مغرب کا کوئی سفارت کار مصنف تجزیہ نگار کشمیر کے حالات میں دلچسپی ظاہر نہیں کررہا۔ پاکستانی سفارت خانے ہمیشہ کی طرح لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں۔

مغربی میڈیا کو جس طرح آزاد کہا جاتا ہے وہ حقیقت میں آزاد نہیں ہوتا۔ دنیا کے بہت سے معاملات میں بالخصوص اسٹرٹیجک امور سے وابستہ مسائل میں مغربی میڈیا اپنی حکومتوں کے اشارے کا منتظر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے حکومتوں نے انہیں اشارہ نہیں کیا ہوگا جبھی وہ اب تک خاموش ہیں۔ پھر مغرب میں وہ کون سا موافق ماحول ہے جس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کے لیے تو ماحول شاید موافق ہومگر کشمیر کے لیے عملی طور پر کوئی موافقت نظر نہیں آتی۔ امریکا نے بھارت کے دباؤ پر جن فرزندان زمین کو گلوبل ٹیررسٹ قرار دیا تھا وہ اب بھی اسی خانے میں موجود ہیں۔ پاکستان نے جن کشمیری النسل عسکریوں کے لب سی ڈالے تھے وہ بدستور لب بستہ اور لاپتا ہیں۔ نوے کی دہائی میں امریکا نے مسئلہ کشمیر کو شمالی آئرلینڈ طرز پر حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ دوہزار پانچ میں شمالی آئرلینڈ کے پیس ماڈل کو جانچنے اور اس کا مطالعہ اورمشاہدہ کرنے کے لیے ایک کشمیری وفد کے ساتھ ہمیں بھی شمالی آئرلینڈ جانے کا موقع ملا۔ اس حل میں آئرش ری پبلکن آرمی کی عسکری قوت کو فریز کر دیا گیا تھا اور انہیں آئرلینڈ کی حکومت اور پارلیمنٹ میں بتدریج شامل کیا جارہا تھا۔ کشمیر پر آئرلینڈ فارمولہ اس انداز سے لاگو ہوا کہ سید صلاح الدین کی قیادت والی کشمیری عسکریت تو فریز ہو گئی مگر سری نگر کے اقتدار میں انہیں کیا حصہ ملنا تھا پرو بھارت لیڈروں کی دستیاب اسپیس بھی ختم ہوگئی اور آج عمر عبداللہ اپنی بے بسی کا بر سرعام رونا رو رہے ہیں۔

سوال تو بنتا ہے کہ سید صلاح الدین کہاں ہیں؟ کیا ان کی مزاحمت کو فریز کر دیا گیا ہے؟ اس بار بھی یوم یکجہتی پر ان کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ اب خاص دنوں پر ان کے ترجمان کا ایک بیان واٹس ایپ پر ملتا ہے تو یاد آتا ہے کہ یہ بھی ایک شخصیت ہوا کرتی تھی۔ اس منظر کو دیکھ کر چودھری غلام عباس یاد آتے ہیں۔ وہی چودھری غلام عباس جب ڈوگرہ حکمرانوں کی قید سے رہا ہو کر قائد اعظم سے ملنے کراچی کے گورنر جنرل ہائوس پہنچے تو قائداعظم خلاف معمول انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے اپنے چیمبر سے باہر آئے تھے۔ بعد میں اپنی مزاحمت سمیت ایسے ڈمپ اور فریز ہوئے کہ شیخ عبداللہ کی آمد پر راولپنڈی لیاقت باغ کے جلسے میں اپنے برسوں کے دبے ہوئے احساس ِ زیاں کو اس شعر کی صورت یوں بیان کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔

میں نے جب وادیِ غربت میں قدم رکھا تھا
دور تک یادِ وطن آئی تھی سمجھانے کو

پاک بھارت مذاکرات سے بددل ہو کر انہوں نے لاہور میں پاکستانی لیڈروں کی آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرکے اپنا مقدمہ پاکستانی قیادت کی عدالت میں پیش کیا۔ پاکستانی قیادت نے ان کے موقف کو درست جان کر خود چودھری غلام عباس کی قیادت میں ایک کشمیر کمیٹی قائم کی۔ جس کے ارکان میں سید حسین شہید سہروردی، مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی، چودھری محمد علی اور خواجہ ناظم الدین شامل تھے۔ اسی کشمیر کمیٹی نے بارہ مارچ 1963 کو پہلا یوم کشمیر منایا تھا۔ پاکستان کے فوجی حکمران ایوب خان نے چین کی پیشکش کے باوجود ہند چین جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا آپشن چنا اور امریکا نے وعدہ کیا کہ اس کے عوض وہ مسئلہ کشمیر کو حل کرائے گا مگر اس جنگ کے بعد جو ہوا اس وعدے کے قطعی برعکس تھا۔ برطانوی دولت مشترکہ کے وزیر ڈنگن سینڈر اور امریکی سفارت کار ایورل ہیری مین نے پاکستان کا دورہ کر کے پاکستان کے حکمرانوں کی رضامندی ایک دستاویز پر دستخط کی شکل میں حاصل کی۔ اسے پاکستان اور بھارت دونوں حکومتوں نے تاریخی دستاویز کہا مگر اس دستاویز کی تھیلی سے جو برآمد ہوا وہ وزرائے خارجہ کے نشستند گفتند و برخاستند طرز کے مذاکرات اور ملاقاتیں تھیں جنہیں عرف عام میں بھٹو سورن سنگھ مذاکرات کہا جاتا ہے۔ اسی رویے سے تنگ آکر چودھری غلام عباس نے پاکستان کے دونوں بازووں کی اعلیٰ ترین سویلین قیادت سے رابطے کا فیصلہ کیا تھا اور آگے چل کر چودھری غلام عباس اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پاکستان کے لیے فاطمہ جناح کی صورت میں سویلین قیادت ہی بہترین آپشن ہے۔

اسی فہم کے تحت انہوں نے ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح کا کھل کر ساتھ دیا تھا۔ اس لیے مغرب سے کشمیر کے حوالے سے ٹھنڈی ہوائیں چلنا تاریخ کے تناظر میں خوش فہمی ہے۔ نائن الیون کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف ایک طوفانی سفارتی مہم شروع کی تھی۔ بھارت نے امریکا کے ساتھ مظلومیت کا مشترکہ رشتہ جوڑنے میں کامیابی حاصل کی تھی اور انہیں یہ باور کرایا تھا کہ امریکا اور بھارت دونوں مسلم شدت پسندی کا شکار اور مظلوم ہیں۔ اس چھتری تلے اسرائیل کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ اسی کے نتیجے میں فیٹف جیسے اداروں نے پاکستان کی کلائی مروڑنے کا آغاز کیا تھا۔ پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف ایسی کوئی مہم نظر نہیں آرہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ حالات جوں کے توں ہی نہیں بلکہ بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اس ماحول کو یکجہتی کے مصنوعی ماحول نعروں اور دعوؤں سے بدلا نہیں جا سکتا۔ امریکا کے ساتھ یارانے کی بحالی کا کشمیر کو ابھی تک کوئی عملی فائدہ نہیں ہوا۔ یکجہتی کے خالی نعروں سے آگے بڑھ کر ابھی تک کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آیا۔ خود پاکستان کے بندھے ہوئے ہاتھ بھی کھلنے کے آثار اور امکانات نظر نہیں آتے۔ یوں یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کشمیریوں سے یکجہتی کہیں وہ نازک موڑ ہی بن کر نہ رہ جائے کہ جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ صرف پاکستان ہی اٹھتر برس سے ناک موڑ پر کھڑا نہیں بلکہ چودھری غلام عباس سے صلاح الدین تک اس کی کشمیر پالیسی پر اسی موڑ پر کھڑی ہے اس موڑ سے آگے بھی ایک دنیا ہے مگر اس کے لیے موڑ مڑنا ضروری ہے۔

عارف بہار سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چودھری غلام عباس نائن الیون کے پاکستان اور نے پاکستان پاکستان کی پاکستان کے نظر نہیں ا امریکا کے اور بھارت امریکا نے بھارت کے ا ئرلینڈ کشمیر کے کشمیر کو بھارت نے رہے ہیں کی تھی کے لیے کے بعد

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی