WE News:
2026-07-24@00:59:22 GMT

سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظهران میں منعقد ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظهران میں منعقد ہوگا

سعودی سنیما ایسوسی ایشن اور کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر کے اشتراک سے منعقد ہونے والا سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظهران میں منعقد ہوگا۔ اس تقریب کو سعوی فلم کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں یورپی سینما کا میلہ، ثقافتی تبادلے کا نیا باب

فیسٹیول میں عرب اور بین الاقوامی فیچر اور مختصر فلمیں پیش کی جائیں گی۔ پروگرام میں روڈ موویز، سفری کہانیاں اور وہ فلمیں شامل ہیں جن میں جسمانی یا جذباتی سفر کہانی کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ تھیم سعودی فلم سازوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ سفر کے تصور کو اپنی انفرادی بصیرت سے پیش کریں، جبکہ سینما کو خود ایک مسلسل تبدیلی اور ارتقا کے عمل کے طور پر اجاگر کیا جائے گا، جہاں شناخت، مقام اور وقت انسانی تجربے کو تشکیل دیتے ہیں۔

گزشتہ برس جاپانی سینما پر خصوصی توجہ کے بعد، اس سال فیسٹیول میں ’اسپاٹ لائٹ آن کوریئن سنیما‘ بھی پیش کیا جائے گا۔

فیسٹیول کے بانی اور ڈائریکٹر احمد الملا نے کہا کہ یہ سالانہ اجتماع فلم سازوں کے لیے تخلیقی اظہار، خیالات کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم ساز اس تقریب کا محور ہیں اور دروازے تمام تخلیق کاروں کے لیے کھلے ہیں۔

مزید پڑھیں: کانز فلم فیسٹیول میں پہلی سعودی فلم ’نورہ‘ کی نمائش کا اعلان

2008 میں آغاز کے بعد سے سعودی فلم فیسٹیول مقامی اور خلیجی سنیما کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ابتدا میں وقفے وقفے سے منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول اب ایک سالانہ پلیٹ فارم بن چکا ہے، جس میں بیانیہ اور دستاویزی مقابلے، انڈسٹری پروگرامز اور پروجیکٹ مارکیٹس شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی سنیما ایسوسی ایشن سعودی فلم فیسٹیول سعوی فلم کمیشن کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعودی سنیما ایسوسی ایشن سعودی فلم فیسٹیول سعوی فلم کمیشن سعودی فلم فیسٹیول

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل