WE News:
2026-06-02@22:07:36 GMT

سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظهران میں منعقد ہوگا

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظهران میں منعقد ہوگا

سعودی سنیما ایسوسی ایشن اور کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر کے اشتراک سے منعقد ہونے والا سعودی فلم فیسٹیول 23 سے 29 اپریل تک ظهران میں منعقد ہوگا۔ اس تقریب کو سعوی فلم کمیشن کی معاونت حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں یورپی سینما کا میلہ، ثقافتی تبادلے کا نیا باب

فیسٹیول میں عرب اور بین الاقوامی فیچر اور مختصر فلمیں پیش کی جائیں گی۔ پروگرام میں روڈ موویز، سفری کہانیاں اور وہ فلمیں شامل ہیں جن میں جسمانی یا جذباتی سفر کہانی کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔

منتظمین کے مطابق یہ تھیم سعودی فلم سازوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ سفر کے تصور کو اپنی انفرادی بصیرت سے پیش کریں، جبکہ سینما کو خود ایک مسلسل تبدیلی اور ارتقا کے عمل کے طور پر اجاگر کیا جائے گا، جہاں شناخت، مقام اور وقت انسانی تجربے کو تشکیل دیتے ہیں۔

گزشتہ برس جاپانی سینما پر خصوصی توجہ کے بعد، اس سال فیسٹیول میں ’اسپاٹ لائٹ آن کوریئن سنیما‘ بھی پیش کیا جائے گا۔

فیسٹیول کے بانی اور ڈائریکٹر احمد الملا نے کہا کہ یہ سالانہ اجتماع فلم سازوں کے لیے تخلیقی اظہار، خیالات کے تبادلے اور باہمی سیکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم ساز اس تقریب کا محور ہیں اور دروازے تمام تخلیق کاروں کے لیے کھلے ہیں۔

مزید پڑھیں: کانز فلم فیسٹیول میں پہلی سعودی فلم ’نورہ‘ کی نمائش کا اعلان

2008 میں آغاز کے بعد سے سعودی فلم فیسٹیول مقامی اور خلیجی سنیما کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ابتدا میں وقفے وقفے سے منعقد ہونے والا یہ فیسٹیول اب ایک سالانہ پلیٹ فارم بن چکا ہے، جس میں بیانیہ اور دستاویزی مقابلے، انڈسٹری پروگرامز اور پروجیکٹ مارکیٹس شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعودی سنیما ایسوسی ایشن سعودی فلم فیسٹیول سعوی فلم کمیشن کنگ عبدالعزیز سینٹر فار ورلڈ کلچر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعودی سنیما ایسوسی ایشن سعودی فلم فیسٹیول سعوی فلم کمیشن سعودی فلم فیسٹیول

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے