فلسطینیوں کیخلاف نیا حربہ، اسرائیل کی مغربی کنارے کی زمینوں کو ’ریاستی ملکیت‘ قرار دینے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمینوں کو “ریاستی ملکیت” قرار دینے کے ایک منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے کے تحت اگر فلسطینی اپنی زمین کی ملکیت ثابت نہ کر سکے تو وہ زمین ریاست کے نام پر درج کی جا سکے گی، جس پر فلسطینی قیادت اور خطے کے کئی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ تجویز وزیر خزانہ سموٹرچ، وزیر انصاف اور وزیر دفاع کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے زمینوں کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے گا جو 1967 میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے معطل تھا۔
نئی پالیسی کے تحت کسی بھی علاقے میں رجسٹریشن شروع ہونے پر زمین کا دعویٰ کرنے والوں کو ملکیت کے دستاویزی ثبوت فراہم کرنا ہوں گے۔
فلسطینی صدارتی دفتر نے اس اقدام کو “سنگین اشتعال انگیزی” اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ درحقیقت “عملی الحاق” (ڈی فیکٹو اینیکسشن) کے مترادف ہے۔ فلسطینی قیادت نے امریکا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
حماس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی اراضی قرار دے کر قبضے کو قانونی شکل دینا چاہتا ہے۔
مزید پڑھیںغزہ فورس سے متعلق ٹرمپ کے اعلان پر پاکستان کی خاموشی
غزہ میں بورڈ آف پیس ممالک کے ہزاروں فوجی اہلکار تعینات ہوں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان
یہ فیصلہ مغربی کنارے کے اُس حصے پر لاگو ہوگا جسے “ایریا سی” کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ 1990 کی دہائی میں ہونے والے اوسلو معاہدوں کے تحت تین حصوں میں تقسیم کے بعد مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
اندازوں کے مطابق ایریا سی میں تین لاکھ سے زائد فلسطینی آباد ہیں، جبکہ لاکھوں افراد اپنی زرعی زمینوں کے لیے اس علاقے پر انحصار کرتے ہیں۔
اسرائیلی اینٹی سیٹلمنٹ تنظیم پیس ناؤ نے اس اقدام کو “بڑی زمین پر قبضے” کے مترادف قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کی بڑی تعداد اپنی زمینوں سے محروم ہو سکتی ہے۔
اردن، قطر، مصر اور ترکی سمیت متعدد علاقائی ممالک نے بھی اسرائیلی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حالیہ دنوں میں امریکی صدر سے واشنگٹن میں ملاقات ہوئی تھی۔ اگرچہ ٹرمپ ماضی میں مغربی کنارے کے باضابطہ الحاق کی مخالفت کر چکے ہیں، تاہم ان کی انتظامیہ نے بستیوں کی تیز رفتار تعمیر کو روکنے کے لیے کوئی واضح اقدام نہیں اٹھایا۔
اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے 2024 میں ایک مشاورتی رائے میں کہا تھا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور مغربی کنارے میں بستیوں کا قیام غیر قانونی ہے اور اسے جلد از جلد ختم ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔