اسرائیل میں مغربی کنارے کی زمینوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی تجویز پر غور
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی حکومت نے ایک متنازع تجویز کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت وسیع علاقوں کو ’ریاستی ملکیت‘ کے طور پر رجسٹر کیا جائے گا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہکے مطابق 1967 میں قبضے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے اس نوعیت کا اقدام کیا ہے، جسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا جارہا ہے کیونکہ قابض طاقت مقبوضہ علاقے کی زمین ضبط نہیں کرسکتی۔
یہ بھی پڑھیے: اسرائیل مغربی کنارے میں نسل پرستی کا نظام نافذ کر رہا ہے، سابق موساد چیف
یہ پیش رفت اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے اتوار کو رپورٹ کی۔ اسی روز غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 12 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ سے منظور شدہ اس تجویز کو وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ، وزیر انصاف یاریو لیون اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے پیش کیا۔ اسموٹریچ نے کہا کہ ’ہم اپنی تمام زمینوں پر کنٹرول کے لیے بستیوں کے انقلاب کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
فلسطینی صدارتی دفتر نے فیصلے کو ’سنگین اشتعال انگیزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور طے شدہ معاہدوں کے منافی ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ اراضی کو یہودی رنگ دینے کی کوشش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کا اسرائیلی اقدامات پر سخت ردعمل
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام درحقیقت مقبوضہ علاقے کے عملی الحاق (ڈی فیکٹو اینیکسیشن) کے مترادف ہے، جس سے غیر قانونی یہودی بستیوں کی توسیع کی راہ ہموار ہوگی۔
دوسری جانب جنگ بندی کے باوجود غزہ میں جھڑپیں جاری ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک کم از کم 601 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیل نے اسی عرصے میں اپنے 4 فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔