اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اپنی جارحیت کو برقرار رکھتے ہوئے مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دے دی۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے اپنی جارحیت کو برقرار رکھتے ہوئے مغربی کنارے کے وسیع علاقوں کو ریاستی ملکیت قرار دینے کی منظوری دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصلے کے تحت زمین کے اندراج کا عمل دوبارہ شروع ہوگا، جو 1967ء سے معطل تھا، فلسطینیوں کو ملکیت ثابت کرنے کے لیے دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔ دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور غزہ پر تازہ حملوں میں مزید 11 فسلطینی شہید ہوگئے جبکہ لبنان شام سرحد پر ڈرون حملوں میں 4 لبنانی شہید کر دیئے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔