امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات کرے تو جوہری معاہدے کیلئے سمجھوتے پر تیار ہیں: ایران
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں ہٹانے سے متعلق سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو تہران جوہری معاہدے کے حوالے سے ممکنہ سمجھوتوں پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بات ایران کے نائب وزیرِ خارجہ مجید تخت روانچی نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔
اس سے قبل ہفتے کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے تک پہنچنا “انتہائی مشکل” عمل ہے۔
تاہم تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے مجید تخت روانچی کا کہنا تھا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے اور اسے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو معاہدے کی جانب پیش رفت ممکن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ امریکا پابندیوں کے معاملے پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہو۔ البتہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا اس سے مراد تمام پابندیوں کا خاتمہ ہے یا جزوی نرمی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔