میں فیصلہ کروں تو شاہین، بابر و شاداب کو باہر بٹھا دوں: شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستانی سابق کپتان شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر میں فیصلہ کروں تو شاہین، بابر اور شاداب کو باہر بٹھا دوں۔
گزشتہ روز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج ٹاکرے میں پاکستان کی بھارت کے خلاف شرمناک شکست کے بعد نجی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے شاہد آفریدی شاہین آفریدی، بابر اعظم اور شاداب خان پر برس پڑے۔
نمبیبیا کے خلاف پاکستان کی حکمتِ عملی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ اگر میرے ہاتھ میں فیصلہ ہو تو میں نمبیبیا کے خلاف میچ میں نئے لڑکوں کو موقع دوں، انہیں کھلاؤں اور اعتماد دوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اتنے عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ یہی لوگ کھیلے جا رہے ہیں، جہاں ہماری ان سے امید ہوتی ہے کہ اس ٹیم کے خلاف اچھا پرفارم کریں گے، اتنے سینئر کھلاڑی ہیں، اب اگر اتنے سینئر کھلاڑی پرفارم نہیں کر رہے تو پھر باہر بیٹھے جونیئر کو کھلائیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ ہم جب تک ڈومیسٹک کرکٹ مضبوط نہیں کریں گے، اپنے کھلاڑیوں کی گرومنگ نہیں کریں گے، ان کی اسکلز پر کام نہیں کریں گے تو یہیں بیٹھے رہیں گے۔
انہوں نے ہر شہر میں کرکٹ اکیڈمی کے قیام پر بھی زور دیا اور کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جب تک پیسہ نہیں لگائیں گے نتائج یہی رہیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف 61 رنز کی شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے گروپ مرحلے میں مسلسل تیسری فتح اپنے نام کر لی۔
کولمبو میں کھیلے گئے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے میچ میں بھارت کے پاکستان کے خلاف کامیابی حاصل کرنے کے بعد ایونٹس کے مقابلوں میں اس کی برتری 1-8 ہو گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی کے خلاف کریں گے کہا کہ
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔