ہزاروں مغربی ممالک کے شہریوں کے غزہ کیخلاف اسرائیل کی جنگ لڑنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ میں یورپی ممالک کے ہزاروں شہری اسرائیلی فوج میں شامل رہے جس کے بعد غیر ملکی شہریوں کے ممکنہ جنگی جرائم پر بین الاقوامی قانونی کارروائی کے سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی این جی او ’ہتزلخا‘ کی جانب سے اسرائیل کے فریڈم آف انفارمیشن قانون کے تحت حاصل کی گئی معلومات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج میں 50 ہزار سے زائد ایسے اہلکار ہیں جن کے پاس اسرائیلی شہریت کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت بھی ہے، ان میں اکثریت امریکی اور یورپی پاسپورٹ رکھنے والوں کی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 12 ہزار سے زائد امریکی، 6 ہزار سے زائد فرانسیسی، 5 ہزار روسی، تقریباً 4 ہزار یوکرینی اور 1,600 سے زائد جرمن شہری اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
برطانوی، کینیڈین، برازیلی، جنوبی افریقی اور لاطینی امریکی ممالک کے شہری بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ معلومات مارچ 2025ء تک کی ہیں جب غزہ کی جنگ کو 17 ماہ ہو چکے تھے۔
دوسری جانب بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کا دعویٰ ہے کہ اکتوبر 2023ء کے بعد سے غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق برطانیہ، جرمنی، فرانس، بیلجیئم اور دیگر ممالک میں انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوج میں شامل غیر ملکی شہریوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، کچھ ممالک میں ابتدائی تحقیقات بھی شروع ہو چکی ہیں تاہم تاحال کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج میں کے مطابق
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔