منفی کردار پسند مگر دوبارہ زندگی ملے تو ہیرو بننا پسند کروں گا: حسن نیازی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ معروف اداکار حسن نیازی کا کہنا ہے کہ مجھے منفی کردار ادا کرنا پسند ہیں لیکن اگر بطور فنکار مجھے دوبارہ زندگی ملے تو میں ہیرو بننا پسند کروں گا تاکہ جونیئرز کو وہ بات سکھا سکوں جو وہ نہیں سیکھ رہے۔
حال ہی میں اداکار نے پی ٹی وی کے ٹاک شو میں بطور مہمان شرکت کی، جہاں انہوں نے موجودہ دور کے پاکستانی ہیروز کے غیر پیشہ ورانہ رویّے پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس سینئرز موجود نہیں ہیں، میں تنقید نہیں کرنا چاہتا، لیکن انہیں اس انداز میں دیکھ کر دُکھ ہوتا ہے، میں اپنے الفاظ سے کسی کی دل آزاری بھی نہیں چاہتا لیکن جونیئرز کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں خود غرض ہو گیا ہوں کیونکہ نئے ہیروز کو سکھانے کا کوئی فائدہ نہیں، رہنمائی وہاں کرنی چاہیے جہاں آپ کی بات سنی اور سمجھی جائے، اگر آپ کا مشورہ کسی راہ گیر کو بھی فائدہ دیدے تو آپ کا فرض ادا ہو جاتا ہے۔
حسن نیازی نے کہا کہ اپنی بات اُن پر ضائع کرنے کی ضرورت نہیں جو سننا ہی نہیں چاہتے، نئے آنے والوں کو سِکھانا میرا کام نہیں، البتہ نئے آنے والے وقت آنے پر ضرور سیکھیں گے، لیکن اپنے طریقے سے، شاید ان کا وقت ابھی نہیں آیا کہ وہ ہم سے سیکھیں، سیٹ پر میں وہ شخص ہوں جو کچھ سکھانے کے لیے بحث شروع کر دیتا ہے۔
واضح رہے کہ حسن نیازی ایک ہمہ جہت اور معروف پاکستانی ٹیلی وژن و فلم اداکار ہیں جنہوں نے اپنی جاندار اداکاری کے ذریعے شہرت حاصل کی ہے۔
انہوں نے ڈرامہ سیریل سپاہی مقبول حسین اور مقبول ڈرامہ سیریل آزر کی آئے گی بارات میں اپنی شاندار پرفارمنس کے باعث مقبولیت حاصل کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حسن نیازی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔