ہم حقیقی انیشی ایٹو کے ہمراہ جنیوا آئے ہیں، سید عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
جنیوا پہنچنے پر امریکہ کیساتھ بالواسطہ مذاکرات کے ایجنڈے کی وضاحت میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج ہم ایک منصفانہ و متوازن معاہدے تک پہنچنے کیلئے حقیقی انیشی ایٹو کے ہمراہ یہاں آئے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ نے تاکید کی ہے کہ جو بات ایجنڈے میں بالکل شامل نہیں، دھمکیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنا ہے! اسلام ٹائمز۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی جو جوہری مسئلے پر امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لئے آج صبح جنیوا پہنچے ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ آج ہم ملکی جوہری ماہرین کے ہمراہ (ڈائریکٹر جنرل آئی اے ای اے) رافائل گروسی کے ساتھ تکنیکی مذاکرات کریں گے۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ میں منگل کے روز امریکہ کے ساتھ سفارتی گفتگو کے آغاز سے قبل، عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے ساتھ بھی ملاقات کروں گا۔ جنیوا میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ہم منصفانہ اور متوازن معاہدے تک پہنچنے کے لئے حقیقی انیشی ایٹو کے ہمراہ جنیوا آئے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی مذاکراتی وفد کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے لئے ایرانی وزیر خارجہ، اپنے اعلی سطحی مذاکراتی وفد کے ہمراہ آج صبح جنیوا پہنچے جہاں سوئس وزیر خارجہ کے خصوصی نمائندے برائے مشرق وسطی و شمالی افریقہ وولف گینگ برہل ہارٹ نے ان کا استقبال کیا۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق سید عباس عراقچی اپنے عمانی ہم منصب کے ساتھ ساتھ سوئس وزیر خارجہ کے ساتھ بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق سید عباس عراقچی تخفیف اسلحہ سے متعلق اقوام متحدہ کی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے جہاں وہ اس تنظیم کے ایجنڈے میں شامل مسائل پر ملکی موقف کی وضاحت کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی کے ہمراہ کے ساتھ کریں گے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔