وزیراعلیٰ پنجاب کا مستحق افراد کے لیے فلاحی پروگرام ’’مریم کو بتائیں‘‘ کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مستحق افراد کے لیے ایک نئے فلاحی پروگرام ’مریم کو بتائیں‘ کے اجرا کا اعلان کردیا ہے۔
سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے بتایا کہ یکم رمضان المبارک سے ضرورت مند خاندانوں کی فوری مالی معاونت کے لیے ’مریم کو بتائیں‘ پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوگا، جس کے تحت مالی مشکلات کا شکار افراد 24 گھنٹے کے اندر 10 ہزار روپے تک امداد حاصل کرسکیں گے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق یکم رمضان سے ’مریم کو بتائیں‘ ہیلپ لائن 1000 فعال ہوجائے گی، جہاں ضرورت مند افراد کال کرکے 10 ہزار روپے کی مالی امداد کے لیے درخواست دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ امداد کے خواہشمند شہری ویب پورٹل یا موبائل ایپ پر اپنا شناختی کارڈ نمبر درج کرکے بھی درخواست جمع کرا سکیں گے۔
ان کا مزید بتانا تھا کہ پی ایس ای آر میں رجسٹرڈ درخواست گزاروں کو اس پروگرام کے تحت مالی امداد 24 گھنٹے کے اندر منتقل کردی جائے گی، جبکہ غیر رجسٹرڈ افراد کی تصدیق اور رجسٹریشن کے لیے 4 دن کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ رمضان المبارک کے دوران ہر ضرورت مند تک حکومتی وسائل کی رسائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ کوئی بھی مستحق فرد امداد سے محروم نہ رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم کو بتائیں کے لیے
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔