سولر نیٹ میٹرنگ پر وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو سے جواب طلب
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے سولر نیٹ میٹرنگ کی نیپرا اورحکومتی پالیسی کیخلاف درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست میں اٹھائے گئے نکات انتہائی اہم ہیں، عدالت معاملے کا گہرائی سے جائزہ لے گی، وفاقی حکومت، نیپرا اور لیسکو جواب جمع کرائیں، اٹارنی جنرل عدالتی معاونت کے لئے پیش ہوں۔
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے تحریری فیصلہ جاری کیا،عدالت کا عبوری تحریری فیصلہ دو صفحات پر مشتمل ہے۔
درخواست گزاروں کے وکیل نعمان قیصر نے دلائل دئیے جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ لانا صارفین کے حقوق پر ڈاکا ہے۔
غیر حاضری پر علیمہ خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری
نیپرا کے نئے قوانین آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں، حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ کا وعدہ توڑ دیا، نئی پالیسی سولر سسٹم پر سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں پربوجھ بن گئی۔
عدالت پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنےکےاحکامات جاری کرے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت نئے ریگولیشنز پر عملدرآمد فوری روکنے کا حکم دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔