ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کی جانی چاہیے، نیتن یاہو
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں سخت مطالبات سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے تمام افزودہ یورینیم بیرونِ ملک منتقل کی جانی چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے یہ مؤقف امریکا کے ساتھ حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران اختیار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکا کا کوئی بھی نیا معاہدہ جامع اور نتیجہ خیز ہونا چاہیے، جس میں نہ صرف افزودگی کے عمل کو روکا جائے بلکہ جوہری تنصیبات، تحقیقاتی مراکز اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے کا مکمل خاتمہ بھی شامل ہو۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران بھی واضح کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو جڑ سے ختم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل کسی ایسے معاہدے کو قابلِ قبول نہیں سمجھے گا جو ایران کو مستقبل میں دوبارہ جوہری سرگرمیاں بحال کرنے کا موقع فراہم کرے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا جائے۔ نیتن یاہو نے مطالبہ کیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی حد زیادہ سے زیادہ 300 کلومیٹر تک محدود کی جائے تاکہ خطے میں سلامتی کے خدشات کم کیے جا سکیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ میزائل پروگرام کو نظرانداز کرنا کسی بھی سفارتی پیش رفت کو غیر مؤثر بنا سکتا ہے۔
دوسری جانب غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں تقریباً 500 کلومیٹر طویل زیرِ زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا۔
ان کے مطابق اسرائیلی فورسز کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم سرنگوں کی پیچیدہ ساخت اور پھیلاؤ کے باعث مکمل خاتمہ تاحال ممکن نہیں ہو سکا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم کہ ایران کے نیتن یاہو تھا کہ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔