محمد آصف

جدید دور کا پاکستان ایک ایسے اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کی سماجی، سیاسی اور معاشی سمت کا تعین بڑی حد تک اُن بنیادی اصولوں سے ہوتا ہے جو قائداعظم محمد علی جناح نے قوم کو عطا کیے تھے : ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط۔ یہ اصول محض نعرے نہیں تھے بلکہ ایک مکمل قومی نظریہ تھے جن کا مقصد ایک مضبوط، منصفانہ اور ترقی پسند ریاست کی تعمیر تھا۔
آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں، جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی، عالمی سیاست اور معاشی چیلنجز نئے تقاضے پیدا کر رہے ہیں، پاکستان کی ترقی کا جائزہ قائداعظم کے انہی اصولوں کی روشنی میں لیا جا سکتا ہے ۔ قائداعظم کے نزدیک ایمان کا مفہوم صرف مذہبی عقیدت تک محدود نہیں تھا بلکہ اس میں اخلاقی دیانت، انصاف اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور بھی شامل تھا۔ جدید پاکستان میں اس تصور کی جھلک جمہوری اداروں کی مضبوطی، قانون کی حکمرانی اور سماجی بہبود کے اقدامات میں نظر آتی ہے ۔ اگرچہ بدعنوانی، عدم مساوات اور طرزِ
حکمرانی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، لیکن عوامی شعور میں اضافہ اور شہری شرکت کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ قوم اخلاقی بہتری اور احتساب کی طرف گامزن ہے ۔
اتحاد، جو قائداعظم کے فلسفے کا دوسرا اہم ستون ہے ، پاکستان جیسے کثیر الثقافتی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے ۔ پاکستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور علاقائی شناختوں کا مجموعہ ہے ، اور جدید دور میں اتحاد کا مطلب ان تمام تنوع کو ایک مشترکہ قومی شناخت میں پرو دینا ہے ۔ ملکی
سطح پر انفراسٹرکچر کی ترقی، بین الصوبائی تعاون اور قومی منصوبے اس اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ذرائع ابلاغ نے مختلف طبقات کے درمیان مکالمے اور باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دیا ہے ، جس سے قومی یکجہتی کو تقویت ملی ہے ۔ تاہم اتحاد کے لیے برداشت، رواداری اور باہمی احترام کی مسلسل ضرورت ہے ۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں میں شمولیت ایک وسیع تر اتحاد کی عکاسی کرتی ہے ، جو ملک کو عالمی برادری کا فعال رکن بناتی ہے ۔ اس طرح اتحاد نہ صرف داخلی استحکام بلکہ خارجی تعلقات میں بھی پاکستان کی مضبوطی کا ذریعہ بنتا ہے ۔
نظم و ضبط قائداعظم کے نظریے کا تیسرا اور نہایت اہم جزو ہے ، جو قومی ترقی کو عملی شکل دینے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ جدید دور میں نظم و ضبط کا مطلب مؤثر حکمرانی، مضبوط ادارے اور شہری ذمہ داری کا احساس ہے ۔ پاکستان نے سائنس و ٹیکنالوجی، دفاع، صحت
اور کاروباری شعبوں میں جو پیش رفت کی ہے ، وہ منظم کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن، معاشی اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک میں منظم منصوبہ بندی کی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ایک بڑی طاقت ہے ، بشرطیکہ اسے معیاری تعلیم، ہنر مندی اور مثبت تربیت فراہم کی جائے ۔ سماجی سطح پر نظم و ضبط کا تقاضا ہے کہ شہری قوانین کی پابندی کریں، عوامی وسائل کا احترام کریں اور اپنی قومی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ معاشی اتار چڑھاؤ، ماحولیاتی تبدیلی اور سلامتی کے
مسائل جیسے چیلنجز کا مقابلہ صرف ایک منظم اور متحد قوم ہی کر سکتی ہے ۔ اکیسویں صدی کے تقاضوں کے ساتھ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو ہم آہنگ کرنا پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے قیام کے اصل مقاصد کو عملی جامہ پہنائے ۔ جدید ریاست کو اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جدت اور ترقی کو اپنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں تعلیم کلیدی کردار ادا کرتی ہے ، کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جو قائداعظم کے نظریے کو موجودہ دور کی ضروریات سے جوڑتا ہے ۔ ایک ایسا نظامِ تعلیم جو تنقیدی سوچ، اخلاقی اقدار اور سائنسی شعور کو فروغ دے ، ایسے شہری پیدا کر سکتا ہے جو اپنی ثقافتی جڑوں سے جڑے ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ معاشی ترقی کو بھی اس انداز میں آگے بڑھانا ضروری ہے کہ اس کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچیں۔ سماجی ہم آہنگی، صنفی مساوات اور ماحولیاتی تحفظ جدید دور میں قائداعظم کے اصولوں کی توسیع شدہ تعبیر ہیں، جو ایک مضبوط اور پائیدار ریاست کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
آخرکار قائداعظم کا نظریہ اپنی ہمہ گیر اور لازوال اہمیت کی وجہ سے آج بھی پاکستان کے لیے ایک روشن راہنما ہے ۔ ایمان قوم کو اخلاقی سمت دیتا ہے ، اتحاد اسے اجتماعی قوت بخشتا ہے اور نظم و ضبط اس قوت کو عملی کامیابی میں تبدیل کرتا ہے ۔ آزادی کے بعد پاکستان کے سفر میں
کامیابیاں بھی آئیں اور مشکلات بھی، مگر ان اصولوں کی معنویت آج بھی برقرار ہے ۔ اگر پاکستان اپنی پالیسی سازی، ادارہ جاتی ترقی اور روزمرہ شہری زندگی میں ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کو حقیقی معنوں میں اپنائے تو وہ ایک روشن، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے ۔ اسی میں قائداعظم کے خواب کی تکمیل اور ایک مضبوط قومی تشخص کی ضمانت پوشیدہ ہے ۔
٭٭٭

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اتحاد اور نظم و ضبط قائداعظم کے پاکستان کی کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار