Juraat:
2026-06-02@23:14:12 GMT

سندھ بلڈنگ، افسران کے زیرسایہ کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

سندھ بلڈنگ، افسران کے زیرسایہ کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات

ڈائریکٹر سمیع جلبانی ، انسپکٹر کاشف علی کے اکٹھ میں تعمیراتی لاقانونیت میں غیرمعمولی اضافہ
اللہ والا ٹاؤن پلاٹ نمبر R741پر کمرشل عمارت تعمیر ، عوامی شکایات پر سرکاری خاموشی

کورنگی کے عوام کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن افسران پر انہیں غیرقانونی تعمیرات سے بچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، وہی افسران خاموشی سے انہی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی کا تعلق اسی محکمے سے ہے جس کا بنیادی کام غیرقانونی تعمیرات کی روک تھام ہے ، مگر حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں کورنگی کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں غیرقانونی تعمیرات عمل میں آئیں، اور حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر انہی علاقوں میں واقع ہیں جہاں انسپکٹر کاشف علی کی نگرانی ہے ۔مقامی تاجر الطاف حسین کا کہنا ہے ، "ہم نے بارہا انسپکٹر کاشف علی کو غیرقانونی تعمیرات کے بارے میں آگاہ کیا، انہیں ثبوت بھی فراہم کیے ، مگر ہر بار وہ یہ کہہ کر ٹال جاتے کہ ‘معاملہ زیر غور ہے ‘۔ جب ہم نے ڈائریکٹر سمیع جلبانی سے ملنے کی کوشش کی تو ان کے دفتر نے کوئی توجہ نہ دی۔”جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے محکمے کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اپنے ماتحت انسپکٹر کاشف علی کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ دونوں افسران کے درمیان ایسی ہم آہنگی ہے کہ کوئی بھی داخلی تحقیقات آگے نہیں بڑھتیں۔ایک سابق محکمانہ ملازم جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں۔ یہاں ایک پورا نظام ہے ۔ جب تک جلبانی صاحب جیسے اعلیٰ افسران کاشف جیسے فیلڈ افسران کو تحفظ دیتے رہیں گے ، غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی کمائی کا ذریعہ ہیں۔”اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ 18ماہ میں کورنگی میں 500سے زائد غیرقانونی تعمیرات ہوئیں ان میں سے 70فیصد ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انسپکٹر کاشف علی تعینات ہیں ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے دور میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں میں 80فیصد کمی آئی۔اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31C کے رہائشی پلاٹ R741پر کمرشل عمارت کی تعمیر جاری ہے ۔مقامی خاتون زرینہ بی بی نے روتے ہوئے کہا، "ہمارے گھر کے برابر چار منزلہ غیرقانونی عمارت بن رہی ہے ، ہمارے گھر کی دیواروں میں دراڑیں آ گئی ہیں۔ انسپکٹر کاشف علی کو اطلاع دی تو کہتے ہیں کہ نقشہ منظور شدہ ہے ۔ ڈائریکٹر جلبانی کے دفتر گئے تو وہاں تو بات کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ بتائیں ہم کہاں جائیں؟”سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قیام کا مقصد ہی شہریوں کو غیرقانونی تعمیرات سے بچانا تھا، مگر آج یہ ادارہ خود اسی لعنت کا شکار ہے ۔ سمیع جلبانی جیسے اعلیٰ افسران اپنی ذمہ داریوں سے لاپرواہ نظر آتے ہیں، جبکہ کاشف علی جیسے فیلڈ افسران اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔سول سوسائٹی کی سرکردہ رکن ثمینہ اقبال کا کہنا ہے ، "یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ تحفظ دینے والے خود تحفظ مانگنے والوں کے محافظ بن گئے ہیں۔ جلبانی اور کاشف کا کیس انتہائی واضح ہے ۔ اگر یہ دونہ افسران اپنے فرائض سے عاری ہیں، تو انہیں فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ایسے افسران موجود ہیں جو اپنے فرائض کو نظرانداز کرتے ہیں، اس وقت تک کورنگی جیسے علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں قانون کا نفاذ کرنے والے خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، اور عام شہری ان کی خاموش سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوام کی نظر میں سمیع جلبانی اور کاشف علی جیسے افسران نہ صرف نااہل ہیں، بلکہ وہ اس نظام کے مجرم بھی ہیں جو ان کی موجودگی میں غیرقانونی تعمیرات کو پروان چڑھا رہا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: میں غیرقانونی تعمیرات ڈائریکٹر سمیع جلبانی انسپکٹر کاشف علی سندھ بلڈنگ علاقوں میں رہے ہیں

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت