سندھ بلڈنگ، افسران کے زیرسایہ کورنگی میں غیرقانونی تعمیرات
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ڈائریکٹر سمیع جلبانی ، انسپکٹر کاشف علی کے اکٹھ میں تعمیراتی لاقانونیت میں غیرمعمولی اضافہ
اللہ والا ٹاؤن پلاٹ نمبر R741پر کمرشل عمارت تعمیر ، عوامی شکایات پر سرکاری خاموشی
کورنگی کے عوام کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جن افسران پر انہیں غیرقانونی تعمیرات سے بچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، وہی افسران خاموشی سے انہی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی اور بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی کا تعلق اسی محکمے سے ہے جس کا بنیادی کام غیرقانونی تعمیرات کی روک تھام ہے ، مگر حقائق کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں کورنگی کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں غیرقانونی تعمیرات عمل میں آئیں، اور حیران کن بات یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر انہی علاقوں میں واقع ہیں جہاں انسپکٹر کاشف علی کی نگرانی ہے ۔مقامی تاجر الطاف حسین کا کہنا ہے ، "ہم نے بارہا انسپکٹر کاشف علی کو غیرقانونی تعمیرات کے بارے میں آگاہ کیا، انہیں ثبوت بھی فراہم کیے ، مگر ہر بار وہ یہ کہہ کر ٹال جاتے کہ ‘معاملہ زیر غور ہے ‘۔ جب ہم نے ڈائریکٹر سمیع جلبانی سے ملنے کی کوشش کی تو ان کے دفتر نے کوئی توجہ نہ دی۔”جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے محکمے کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی اپنے ماتحت انسپکٹر کاشف علی کو مکمل تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ دونوں افسران کے درمیان ایسی ہم آہنگی ہے کہ کوئی بھی داخلی تحقیقات آگے نہیں بڑھتیں۔ایک سابق محکمانہ ملازم جو اب ریٹائر ہو چکے ہیں، نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "یہ کوئی انفرادی معاملہ نہیں۔ یہاں ایک پورا نظام ہے ۔ جب تک جلبانی صاحب جیسے اعلیٰ افسران کاشف جیسے فیلڈ افسران کو تحفظ دیتے رہیں گے ، غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی کمائی کا ذریعہ ہیں۔”اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ 18ماہ میں کورنگی میں 500سے زائد غیرقانونی تعمیرات ہوئیں ان میں سے 70فیصد ایسے علاقوں میں ہیں جہاں انسپکٹر کاشف علی تعینات ہیں ڈائریکٹر سمیع جلبانی کے دور میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں میں 80فیصد کمی آئی۔اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 31C کے رہائشی پلاٹ R741پر کمرشل عمارت کی تعمیر جاری ہے ۔مقامی خاتون زرینہ بی بی نے روتے ہوئے کہا، "ہمارے گھر کے برابر چار منزلہ غیرقانونی عمارت بن رہی ہے ، ہمارے گھر کی دیواروں میں دراڑیں آ گئی ہیں۔ انسپکٹر کاشف علی کو اطلاع دی تو کہتے ہیں کہ نقشہ منظور شدہ ہے ۔ ڈائریکٹر جلبانی کے دفتر گئے تو وہاں تو بات کرنے والا کوئی نہیں۔ یہ بتائیں ہم کہاں جائیں؟”سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قیام کا مقصد ہی شہریوں کو غیرقانونی تعمیرات سے بچانا تھا، مگر آج یہ ادارہ خود اسی لعنت کا شکار ہے ۔ سمیع جلبانی جیسے اعلیٰ افسران اپنی ذمہ داریوں سے لاپرواہ نظر آتے ہیں، جبکہ کاشف علی جیسے فیلڈ افسران اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔سول سوسائٹی کی سرکردہ رکن ثمینہ اقبال کا کہنا ہے ، "یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ تحفظ دینے والے خود تحفظ مانگنے والوں کے محافظ بن گئے ہیں۔ جلبانی اور کاشف کا کیس انتہائی واضح ہے ۔ اگر یہ دونہ افسران اپنے فرائض سے عاری ہیں، تو انہیں فوری طور پر معطل کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں ایسے افسران موجود ہیں جو اپنے فرائض کو نظرانداز کرتے ہیں، اس وقت تک کورنگی جیسے علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔یہ ایک ایسا المیہ ہے جہاں قانون کا نفاذ کرنے والے خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں، اور عام شہری ان کی خاموش سازشوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ عوام کی نظر میں سمیع جلبانی اور کاشف علی جیسے افسران نہ صرف نااہل ہیں، بلکہ وہ اس نظام کے مجرم بھی ہیں جو ان کی موجودگی میں غیرقانونی تعمیرات کو پروان چڑھا رہا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: میں غیرقانونی تعمیرات ڈائریکٹر سمیع جلبانی انسپکٹر کاشف علی سندھ بلڈنگ علاقوں میں رہے ہیں
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔