مظفر آباد میں اوورسیز کشمیری کنونشن کا آغاز، دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
آزاد کشمیر حکومت کے زیرِ اہتمام اوورسیز کشمیری کنونشن کا آغاز مظفرآباد میں ہو گیا، جس میں دنیا بھر سے مقیم کشمیریوں نے شرکت کی۔
مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عالمی سطح پر نام کمانے والے کشمیری اس اہم کنونشن میں شریک ہیں۔ تقریب میں وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور، قائدِ حزبِ اختلاف، وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، حریت رہنما اور آزاد کشمیر حکومت کے وزرا بھی موجود ہیں۔
پینل مباحثے اور پالیسی ڈائیلاگکنونشن کے دوران پینل گروپ مباحثوں اور پالیسی ڈائیلاگ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت نے شرکاء کے لیے بہترین انتظامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے موجودہ حکومت کی کامیابی ہے کہ عوام کا ریاستی نظام پراعتماد بحال ہوا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر
کنونشن میں ریاست کی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے لیے خصوصی اور علیحدہ عدالت کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔
اوورسیز مسائل کے حل کے لیے اقداماتکنونشن کے تحت وزیرِ اعظم آزاد کشمیر ویب پورٹل کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کا مقصد اوورسیز کشمیریوں کے مسائل اور شکایات کا فوری ازالہ کرنا ہے۔
سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ون ونڈو آپریشن کے قیام کو بھی اقدامات میں شامل کیا گیا ہے تاکہ بیرونِ ملک سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
آئی ٹی، پن بجلی، سیاحت اور معدنیات پر فوکسکنونشن میں آئی ٹی، ہائیڈل (پن بجلی)، سیاحت اور معدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔ پینل مباحثوں کے بعد سفارشات کی روشنی میں جامع پالیسی مرتب کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے اوورسیز کشمیر کانفرنس: 16 فروری کو آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان
آرٹ اور کلچر شوز بھی کنونشن کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے کشمیری ثقافت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
نشستوں کے معاملے پر 3 ارکان اسمبلی واپسدوسری جانب کنونشن کے دوران نشستوں کی عدم دستیابی کے باعث حکومتی وزیر سردار یاسر سلطان، ایم ایل اے عبدالماجد خان اور عاصم شریف بٹ، کو بیٹھنے کی جگہ نہ مل سکی، جس پر تینوں ارکان اسمبلی تقریب میں شرکت کیے بغیر واپس چلے گئے۔
واضح رہے کہ آج 16 فروری 2026 بروز پیر کو آزاد کشمیر میں عام تعطیل ہے۔ اس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق 16 فروری کو مظفرآباد میں تمام سرکاری، نیم سرکاری ادارے اور نجی تجارتی مراکز بند ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ معزز مہمانوں کی آمد اور کانفرنس کے کامیاب انعقاد کے لیے یہ اقدام ناگزیر تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد کشمیر اوورسیز کشمیری کنونشن مظفر آباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوورسیز کشمیری کنونشن اوورسیز کشمیری اوورسیز کشمیر کیا گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔