کراچی میں پرامن دھرنے پر شیلنگ کے خلاف ملتان میں جماعت اسلامی کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
مظاہرین سے خطاب کرتے جماعت اسلامی ملتان کے امیر کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہری اپنے جائز بلدیاتی اور بنیادی حقوق کے لیے پُرامن انداز میں سراپا احتجاج تھے، مگر ان پر شیلنگ اور طاقت کا استعمال کیا گیا جو جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے زیراہتمام کراچی میں پرامن دھرنے کے شرکا پر مبینہ شیلنگ، تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف ملتان میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاج کی قیادت امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی نے کی۔ اس موقع پر مولانا محمود بشیر ڈپٹی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی جنوبی پنجاب، خواجہ عاصم ریاض سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی ملتان، ڈاکٹر خالد رشید، ڈاکٹر محمد عبداللہ کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کراچی کے مظلوم عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ کراچی میں شہری اپنے جائز بلدیاتی اور بنیادی حقوق کے لیے پُرامن انداز میں سراپا احتجاج تھے، مگر ان پر شیلنگ اور طاقت کا استعمال کیا گیا جو جمہوری اقدار اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، اسے طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کسی صورت قابل قبول نہیں، سندھ حکومت کا طرزعمل فسطائیت کی عکاسی کرتا ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی میں
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔