علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں، مولانا ضیغم عباس
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ایک جید عالمِ دین، استاد اور سینکڑوں علما کے مربی ہیں، ایک بزرگ اور بیمار اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ایسا سفاکانہ رویہ نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ قومی اقدار کی توہین ہے، حکمران یاد رکھیں کہ ظلم کی ہر داستان کا حساب تاریخ اور قوم دونوں لیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلسِ وحدت مسلمین کے ڈپٹی سیکریٹری امور خارجہ مولانا ضیغم عباس، مولانا ڈاکٹر سید جاوید شیرازی، سلیم عباس صدیقی مرکزی صدر وحدت ایمپلائز ونگ ڈبلیو ایم ایم، ضلعی صدر عون رضا انجم ایڈوکیٹ نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دوٹوک اور واضح انداز میں اعلان کیا ہے کہ حکمرانوں کا ارکانِ پارلیمنٹ سمیت خواتین اراکین کے ساتھ 36 گھنٹوں سے روا رکھا جانے والا غیرانسانی سلوک مارشل لا کے سیاہ ترین ادوار کو بھی شرما رہا ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن رہنما گزشتہ کئی گھنٹوں سے عملا قید میں ہیں اور پارلیمنٹ ہاوس کو ایک عقوبت خانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اس امر ملت میں شدید غم و غصہ پایا جاتاہے، سینئر سیاستدان محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سمیت متعدد ارکان شوگر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں، مگر انہیں ادویات تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے، چھتیس گھنٹوں سے کھانا اور پانی بند رکھنا بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور کھلی ریاستی بربریت ہے۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری ایک جید عالمِ دین، استاد اور سینکڑوں علما کے مربی ہیں، ایک بزرگ اور بیمار اپوزیشن لیڈر کے ساتھ ایسا سفاکانہ رویہ نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ قومی اقدار کی توہین ہے، حکمران یاد رکھیں کہ ظلم کی ہر داستان کا حساب تاریخ اور قوم دونوں لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سابق وزیرِاعظم عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل نہ کرنے کو بھی حکومتی انتقام اور غیرانسانی رویے کی بدترین مثال قرار ڈدیتے ہیں اور سیاسی اختلاف کی آڑ میں انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ مجلسِ وحدت مسلمین پاکستان حکومت کو متنبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر پارلیمنٹ کا محاصرہ ختم کرے، محبوس ارکان کو رہا کرے، بیمار افراد کو طبی سہولیات فراہم کرے اور دھرنا دینے والے پارلیمنٹرینز کے جائز مطالبات پر بلاتاخیر عملدرآمد کرے، بصورتِ دیگر ملک بھر میں شدید عوامی ردِعمل کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے غیرقانونی غیرآئینی اور شرمناک محاصرے کی شدید مذمت کرتے ہیں، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں، اس سے بری حکومت کی سنگینی اور بے حسی اور انتقامی سیاست اور کیا ہوگی کہ موجودہ حکمرانوں نے پارلیمنٹ اور منتخب نمائندوں کے خلاف اقدامات میں بدترین امریتوں ڈکٹیٹروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ملک کو عملا ایک جبر پر مبنی ریاست میں تبدیل کر دیا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔