شاہراہوں پر سخت چیکنگ کے بعد اسمگلروں کا رخ ریل گاڑیوں کی جانب، بڑی کارروائیاں سامنے آگئیں
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
لاہور:
شاہراہوں اور موٹر ویز پر سخت ترین چیکنگ کے بعد منشیات اور اسلحہ کے اسمگلروں نے ریل گاڑیوں کے ذریعے اسمگلنگ شروع کر دی، تاہم ریلویز پولیس کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں نے اس کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔
ریلویز پولیس نے کروڑوں روپے مالیت کا جدید اسلحہ اور اربوں روپے مالیت کی آئس، ہیروئن اور دیگر منشیات برآمد کر لیں۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 13 ماہ کے دوران پشاور، کراچی، کوئٹہ سمیت مختلف شہروں سے لاہور اور دیگر علاقوں میں منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے گئے۔
غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف 68 مقدمات درج کیے گئے اور 72 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے 1,979 گولیاں، ایک کلاشنکوف، 4 رائفلز، 82 پستول، 89 میگزینز، 4 چاقو اور ایک کٹر برآمد کیا گیا۔
اسی طرح ٹرینوں کے ذریعے منشیات اسمگل کرنے کے خلاف 218 مقدمات درج کر کے 231 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے 1.
ریلوے پولیس کے مطابق اسمگلروں نے خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کیا کیونکہ دورانِ سفر عموماً ان کی سخت چیکنگ نہیں ہوتی، تاہم افسران اور جوانوں پر مشتمل خصوصی ٹیموں نے مشکوک افراد اور پارسلز پر کارروائیاں کرتے ہوئے ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا۔ بعض کیسز میں بک کرائے گئے سامان کی تلاشی کے دوران بھی منشیات برآمد ہوئیں۔
ترجمان کے مطابق ریلوے انفرا اسٹرکچر کا تحفظ اور مسافروں کو محفوظ سفر کی فراہمی ادارے کی ذمہ داری ہے، جبکہ منشیات اور اسلحہ کی اسمگلنگ کے خلاف منظم کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی اور ہر اطلاع پر فوری ایکشن لیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔