عمران خان کی متاثرہ آنکھ کی بینائی تسلی بخش ہے، میڈیکل بورڈ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
راولپنڈی (نیوزڈیسک)بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی معائنے کی رپورٹ سامنے آ گئی73 سالہ عمران احمدخان نیازی کا 15 فروری 2026 کو میڈیکل بورڈ کے ذریعے تفصیلی طبی معائنہ مکمل کیا گیا۔میڈیکل بورڈ میں الشفاء ٹرسٹ آئی ہسپتال کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم قریشی اور پمز کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عارف خان شامل تھے۔ سنٹرل میکیولر تھکنس 550 سے کم ہو کر 350 ہوئی جو نمایاں بہتری ہے۔ رپور ٹ متاثرہ دائیں آنکھ کی بینائی 6/36 سے بہتر ہو کر 6/9 ہوئی ہے، جو موجودہ مرحلے پر تسلی بخش ہے۔ رپورٹ بغیر عینک دائیں آنکھ کی بینائی 6/24 اور بائیں آنکھ کی 6/9 ریکارڈعینک کے ساتھ دائیں آنکھ 6/9 جبکہ بائیں آنکھ 6/6 ہو گئی ہےرپورٹ میں آنکھوں کی موجودہ میڈیکل کنڈیشن کی تمام تفصیل شامل ۔میڈیکل بورڈ نے رپورٹ میں آئندہ کا علاج اور ادویات بھی تجویز کی ہیں۔ نیواناک آئی ڈراپس دونوں آنکھوں کیلئے روزانہ دو بار دینے کی ہدایت کو-سوپٹ آئی ڈراپس صرف دائیں آنکھ کیلئے روزانہ دو بار جاری رکھنے کی ہدایتسسٹین الٹرا آئی ڈراپس دونوں آنکھوں کیلئے دن میں تین بار استعمال کرنے کی ہدایتاینٹی-VEGF انجیکشن کی دوسری خوراک شیڈول کے مطابق دینے کی تجویزمزید تشخیص کیلئے OCT اینجیوگرافی اور اینٹی-VEGF مکمل ہونے کے بعد FFA ٹیسٹ کی ہدایتمیڈیکل بورڈ کے دورہ اڈیالہ جیل کے بعد بیرسٹر گوہر خان اور علامہ راجہ ناصر عباس کی پمز آمد، ماہرین نے تفصیلی بریفنگ دیعمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم یوسف اور ڈاکٹر خرم مرزا کو بھی فون پر بریفنگ دی گئی، رپورٹپارٹی رہنماؤں اور ذاتی معالجین کا جاری علاج اور فالو اپ پلان پر مکمل اطمینان اور اعتماد کا اظہار، رپورٹبانی پی ٹی آئی کے میڈیکل چیک اپ کی رپورٹ دونوں ڈاکٹروں کے دستخط سے جاری کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میڈیکل بورڈ دائیں ا نکھ ا نکھ کی
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔