حکومت مجھے، ڈاکٹر فیصل یا بانی کی فیملی کے نامزد ڈاکٹرز کو معاملہ دیکھنے دے، ڈاکٹر عاصم یوسف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
فوٹو: فائل
شوکت خانم اسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عاصم یوسف نے بانی پی ٹی آئی کی طبیعت کی بہتری کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مجھے، ڈاکٹر فیصل سلطان یا بانی کی فیملی کے نامزد ڈاکٹرز کو معاملہ دیکھنے دے۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عاصم یوسف کا کہنا تھا کہ کل رات پونے دس بجے میری اسلام آباد کے دو ڈاکٹرز سے بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی تکلیف کا علاج کر رہے ہیں، میری ڈاکٹرز کے ساتھ گفتگو 40 منٹ تک جاری رہی۔ میرے ساتھ ڈاکٹر خرم اعظم مرزا بھی گفتگو میں شریک ہوئے۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت کا معائنہ کرنے کیلئے 2 رکنی میڈیکل بورڈ نے اڈیالہ جیل کا دورہ کیا، ڈاکٹر ندیم قریشی اور محمد عارف خان نے ان کی آنکھوں کا چیک اپ کیا۔
ڈاکٹر عاصم یوسف نے کہا کہ دونوں ڈاکٹرز نے مجھے بانی پی ٹی آئی کے علاج، ٹیسٹ، آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ٹھیک ہے، ڈاکٹرز نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بینائی میں بہتری آئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افسوس ہے میں خود اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتا، حکومت مجھے، ڈاکٹر فیصل سلطان یا بانی پی ٹی آئی کی فیملی کے نامزد ڈاکٹرز کو معاملہ دیکھنے دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی کی ڈاکٹر عاصم یوسف
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔