شرجیل میمن نے جماعت اسلامی رہنما کے پولیس پر پتھراؤ کی ویڈیو چلادی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
شرجیل میمن نے سابق رکن جماعت اسلامی عبدالرشید کے پولیس پر پتھراؤ کی ویڈیو چلادی اور کہا کہ یہ کونسا قانون ہے کہ آپ پولیس پر حملہ کرو اور کارروائی نہ ہو۔
سندھ اسمبلی میں خطاب میں شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سابق رکن صوبائی اسمبلی عبدالرشید پولیس کو پتھر مارنے کا کہہ رہے ہیں، دنیا کا کونسا قانون آپ کو پولیس کو پتھر مارنے کا کہتا تھا۔
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد اظہار رائے پر یقین رکھتی ہے، لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ جب دل چاہے کوئی جماعت شہر کی مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے دے۔
جماعت اسلامی کے شارع فیصل پر جلسے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات ہوئیں، ہفتے کےروز جماعت کے کارکن ریڈ زون میں داخل ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس پر پتھراؤ کیا تو پولیس کو مجبوراً شیلنگ کرنا پڑی، ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت سے مسائل حل ہوں گے، جمہوریت میں احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ احتجاج کی آڑ میں عوام کو تکلیف دینے کا اختیار کسی کو نہیں، انہوں نے ایوان میں احتجاج کیا کسی نے نہیں روکا۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر سب کو روڈ بند کرنے کی اجازت دے دی تو عوام کہاں جائے گی، آپ نے شارع فیصل پر احتجاج کیا آپ نے اجازت نہیں لی۔
شرجیل میمن نے یہ بھی کہا کہ آپ کو جو احتجاج کرنا ہےکریں ہم آپ کو جگہ دے دیتے ہیں، اسمبلی کے باہر احتجاج کے دن بھی انتظامیہ ان سے رابطے میں تھی، انتظامیہ نے ان سے کہا ریڈ زون میں احتجاج نہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے جماعت اسلامی پولیس پر
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔