توشہ خانہ 2 کیس، بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر اعتراض عائد
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوزڈیسک) ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی کی دائر درخواست ضمانت پر اعتراض عائد کردیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی دائر اپیل پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بروقت دور نہ کرنے کا اعتراض عائد کیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے قانون کے مطابق اپیل پر رجسٹرار کے اعتراضات 7 دن میں دور کرنا تھے لیکن درخواست گزار نے کیس کی مرکزی اپیل پر بروقت اعتراضات دور نہیں کئے۔
اپیل پر عائد اعتراضات دور کرنے کا وقت گزر چکا ہے، رجسڑار آفس کے مطابق اعتراض موجود ہے تو سزا معطلی کی درخواست کیسے لگائی جاسکتی ہے؟۔
دیگر مقدمات کے حوالے وضاحت میں ایڈیشنل رجسٹرار نے کہا ہے کیس جلد مقرر کرانے کی متفرق درخواستیں جمعرات کو سنی جاتی ہیں۔ ایڈیشنل رجسٹرار نور محمد مرزا نے کہا کہ متفرق درٓخواستوں کی سماعت کے روز ہی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا معطلی کی درخواستیں بھی سماعت کیلئے مقرر ہوں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپیل پر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔