پارٹی کے فیصلے کون کرے گا، پی ٹی آئی رہنماؤں نے سر جوڑلیے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر خان کا کہنا ہے کہ پارٹی کے فیصلے عمران خان کی فیملی کرے گی یا اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کریں گے اس بات کا فیصلہ لیڈرشپ کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی ہاؤس کا دھرنا پارلیمنٹ منتقل کرنے کا پروگرام، محمود اچکزئی نے سہیل آفریدی کو اپنے پاس بلا لیا
پیر کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ویسے تو عمران خان کی فیملی کو موجودہ حالات پر زیادہ دکھ ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان نے محمود خان اچکزئی کے فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جنید اکبر خان کا کہنا تھا کہ سلمان صفدر کے ساتھ ہونے والی حالیہ ملاقات میں عمران خان نے گوہر خان کے لیے پیغام بھجوایا تھا کہ محمود خان اچکزئی جو فیصلے کریں ان پر عمل کیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں جنید اکبر خان نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی کا دھرنا جاری رہے گا یا نہیں اس بات کا فیصلہ بھی پارٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: شیخ وقاص اکرم کا عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ پر شدید ردعمل، جیل حکام پر سنگین الزامات
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر پارٹی نے فیصلہ کرلیا کہ بات محمود خان اچکزئی کی مانی جائے گی تو پھر آپ ان لوگوں کا احتجاج ختم کروائیں گے جو عمران خان کے لیے نکلے ہوئے ہیں تو صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا نے کہا کہ جب ہم نے ان کو بٹھایا ہی نہیں تو اٹھائیں گے کیوں اور ویسے بھی عمران خان کے لیے سڑکوں پر نکلنا لوگوں کا حق ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی کا دھرنا، اشیا کی ترسیل بند، مسافروں اور تاجروں کو شدید مشکلات
انہوں نے کہا کہ جو بھی عمران خان کے لیے احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکلتا ہے وہ لائق تحسین ہے اور پارٹی ان کو سپورٹ کرے گی۔
ہماری اسی لیے میٹنگ ہو رہی ہے کہ پارٹی کے فیصلے عمران خان کی فیملی کرے گی یا محمود خان اچکزئی کریں گے، جنید اکبر خان pic.
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) February 16, 2026
پی ٹی آئی نہ پہلے تقسیم ہوئی نہ آئندہ ہوگیایک سوال کے جواب میں جنید اکبر خان نے کہا کہ نہ تو پی ٹی آئی پہلے کبھی تقسیم ہوئی ہے نہ آئندہ ہوگی اور ورکرز ان کے ساتھ ہی ہوں گے جن کو عمران خان کی حمایت حاصل ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پی ٹی آئی احتجاج پی ٹی آئی کے فیصلے جنید اکبر خان عمران خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی پی ٹی ا ئی احتجاج پی ٹی ا ئی کے فیصلے جنید اکبر خان محمود خان اچکزئی جنید اکبر خان عمران خان کی خان کے لیے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ کے فیصلے پارٹی کے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔