عمران خان کی نظر آج بھی جوانوں کی طرح ہے، اپوزیشن نہیں چاہتی رپورٹ اچھی آئے، وزیر مملکت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن نہیں چاہتی کہ اُن کی رپورٹ اچھی آئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ دھرنے کے شرکاء کو مختلف اقسام کے پراٹھے پہنچائے گئے، علامہ راجہ ناصر عباس اس کی تصدیق کرلیں ورنہ ہمارے پاس سارے شواہد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دھرنے میں ایسے لوگوں کو بھی پہنچایا گیا جو پارلیمنٹیرینز نہیں تھے جبکہ مسلح افراد کو پارلیمنٹ لاجز تک پہنچایا گیا جہاں فیملیز موجود تھی، اس طرح کے اقدامات سے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد نئی ایس او پیز اور ہدیات جاری کی گئی ہیں۔ ہمارا ان بزدلوں سے واسطہ ہے جو مساجد اور امام بارگاہوں کو نہیں چھوڑتے۔
مزید پڑھیںعمران خان کی آنکھ کے لیزر آپریشن کی ضرورت پڑی تو وہ بھی کیا جائے گا، وفاقی وزیر
عمران خان کی آنکھوں کے معائنے سے متعلق معاملے پر سپریم کورٹ نے تحریری حکمنامہ جاری کر دیا
عمران خان کو کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہوئی تو بیرون ملک بھجوایا جاسکتا ہے، دانیال چوہدری
طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رپورٹس سپریم کورٹ پہنچ چکی ہوں گی، بانی پی ٹی آئی کا تفصیلی معائنہ کیا گیا اور رپورٹس تسلی بخش ہیں اور اُن کی نظر جوانوں کی طرح ہے وہ دیکھ اور پڑھ رہے ہیں۔
وہ علامہ بھی ہیں، اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ہم نے انہیں ایک مرتبہ سے زیادہ پراٹھے بھجوائے میں مکمل شواہد دوں گا، جو اپوزیشن احتجاج میں پراٹھے کھانے کا سچ نہیں بول سکتی وہ اپنے بانی کی صحت پر سچ کیوں بولے گی۔ رپورٹس آگئی ہیں ان کو اچھا نہیں لگتا ہو گا بانی کی صحت ٹھیک ہے، طلال چوہدری pic.
انہوں نے کہا کہ دھرنے والوں کو بانی پی ٹی آئی کی آنکھ بچ جانے پر مایوسی ہوئی کیونکہ پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ رپورٹس اچھی آٗئیں، ان کی سیاست نہیں رہی اور یہ چاہتے ہیں کوئی حادثہ ہو جائے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کا احتجاج ناکام ہو چکا ہے، انہوں نے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلی بھی تبدیل کر کے دیکھ لیا مگر کوئی کامیابی نہیں ملی اور نہ ہی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: طلال چوہدری نے بانی پی ٹی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔