نئے نیٹ میٹرنگ قوانین صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے: نیپرا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: حکومت کی جانب سے نظر ثانی درخواست پر نیپرا نے نیٹ میٹرنگ صارفین کے قوانین میں ترمیم کردی۔ نئے نیٹ میٹرنگ قوانین صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق پرانے سولر صارفین پر نئے قوانین لاگو نہیں ہوں گے، نیٹ میٹرنگ کے موجودہ معاہدے اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہیں گے۔
نیپرا حکام کے مطابق نئے نیٹ میٹرنگ قوانین صرف نئے صارفین پر لاگو ہوں گے، پرانے پروسومرز کو معاہدے کے مطابق ہی بل کیا جائے گا، نیپرا کی ترمیم 9 فروری 2026 سے مؤثر سمجھی جائے گی۔
واضح رہے کہ وزیراعظم نے سولر نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کرنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پاور ڈویژن کو نظر ثانی درخواست کی ہدایت کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیٹ میٹرنگ صارفین پر ہوں گے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔