رمضان کی آمد؛ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا بڑا اعلان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے عوام سے کل بروز منگل چاند دیکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہادتیں متعلقہ اداروں کو جمع کرائیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری اگر دوربین سے بھی چاند دیکھیں تو فوری طور پر قریبی عدالت یا متعلقہ سرکاری ادارے کو اطلاع دیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنی شہادت تحریری طور پر بھی درج کروائیں تاکہ رویتِ ہلال کے فیصلے میں آسانی ہوگی۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، بحرین اور عمان میں بھی چاند دیکھنے کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری کمیٹیاں متحرک کر دی گئی ہیں۔
عوام کی شہادتوں کے ساتھ ساتھ ماہرینِ فلکیات کی رائے بھی رویت کے فیصلے میں شامل کی جائیں گی۔
عرب میڈیا کے اگر کل چاند نظر آ گیا تو نیا اسلامی مہینہ اگلے روز یعنی بدھ سے شروع ہو جائے گا جبکہ چاند نظر نہ آنے کی صورت میں شعبان کا مہینہ 30 دن مکمل کرے گا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں رویتِ ہلال کے فیصلے کو دنیا بھر کے کئی اسلامی ممالک میں بھی اہمیت دی جاتی ہے اور متعدد ممالک اپنے فیصلے انہی اعلانات کی روشنی میں کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز