اپوزیشن اتحاد کا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
فوٹو: فائل
اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ جب تک ہمارے کسی عہدیدار کی ملاقات نہیں ہوجاتی، دھرنا جاری رکھا جانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے کہا ہمارا دھرنا جاری ہے جبکہ سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے کوئی پارٹی عہدیدار نہیں ملتا ہم دھرنا جاری رکھیں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں کمیٹی اراکین سے پولیس کے رویے اور اپوزیشن دھرنے پر مکالمہ ہوا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسد قیصر نے بتایا کہ آج اپوزیشن کی میٹنگ میں علامہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹیرینز کو بریف کیا۔
پارٹی کے مرکزی کی قیادت کی مشاورت جاری ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے اپنے معالج کی ملاقات کروائی جائیں۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تو دھرنا مسلسل جاری رہے گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر بھی پی ٹی آئی رہنما دھرنا جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔