محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کیلئے بہت کوشش کی، اب وہ ہمارے دھرنے سے رہا نہیں ہونگے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کیلئے بہت کوشش کی، اب وہ ہمارے دھرنے سے رہا نہیں ہونگے، علی امین گنڈاپور WhatsAppFacebookTwitter 0 16 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)سابق وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہمارے دھرنے سے عمران خان باہر نہیں آئیں گے، محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے جتنی کوشش کی کسی نے نہیں کی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے طاقتور حلقوں کے سامنے کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہاکہ مفاہمت ہمارے دین میں ہے، اور یہی ترقی کا راستہ ہوتا ہے، عمران خان کے جیل سے باہر نہ آنے کے ذمہ دار ہم سب ہیں، وہ جس سوچ سے چل رہے تھے ملک کو بہت آگے لے کر جاتے۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ پی ٹی آئی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، جس میں ہم سب شامل ہیں، ہمارے درمیان بدنیت لوگ موجود ہیں۔ اس وقت پارٹی کے اندر کسی میں فیصلہ سازی کی قوت نہیں، اس پارٹی میں سب ایک دوسرے پر ملبہ ڈال رہے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے کہاکہ عمران خان نے کہاکہ 26ویں ترمیم کو روکنے کے لے اسلام آباد آنا ہے، ہم آئے تو جڑیں ہل گئی تھیں، سسٹم ہمارے ساتھ بیٹھنے پر راضی ہوگیا تھا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے ہمیں سنگجانی میں رکنے کا کہا تھا لیکن بشری بی بی نے انکار کیا، اب ہمارا دبا اتنا کم ہوگیا کہ ملاقات سے لے کر عمران خان کی صحت پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ عمران خان سے ملنے کے لیے جانے والے لوگ عجیب کہانیاں سناتے ہیں، 5 اکتوبر کو جب ہم اسلام آباد پہنچے تو 15 لوگ بھی وہاں پر نہیں تھے، جبکہ عمران خان کو بتایا گیا کہ ڈیڑھ لاکھ لوگ تھے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ عمران خان کی صحت سے متعلق اطلاعات پر یقین نہیں رکھتے، سوال یہ ہے کہ عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں کرائی جا رہی۔ دعا ہے جیسی رپورٹ بتائی جا رہی ہے ان کی صحت ویسی ہی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراپوزیشن اتحاد کا مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاوس کا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ اپوزیشن اتحاد کا مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاوس کا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ پی ٹی آئی میں دراڑ، عمران خان کی بہنوں نے کل بنی گالہ میں الگ پریس کانفرنس بلا لی وفاقی محتسب کا بڑا فیصلہ، بچے کی پیدائش پر والد کو بھی چھٹی دینا لازمی قرار،چھٹی نہ دینے پر اسٹیٹ بینک پر پانچ لاکھ... عمران خان کی نظر آج بھی جوانوں کی طرح ہے، اپوزیشن نہیں چاہتی رپورٹ اچھی آئے، طلال چوہدری چائنا میڈیا گروپ اسپرنگ فیسٹیول گالا کی نشریات یونٹ کے بدلے یونٹ، پرانے سولرصارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقراررکھنے کا فیصلہ
Copyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی علی امین گنڈاپور نے نے کہاکہ عمران خان انہوں نے کہاکہ کہ عمران خان کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔