data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صوابی:تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر جاری احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ سڑک بند ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین نے انٹرچینج پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں موٹروے پر ٹریفک کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، گاڑیوں میں پھنسے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں جو طویل انتظار، خوراک و پانی کی کمی اور تاخیر کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، بعض مسافروں نے متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی مگر وہاں بھی شدید رش کے باعث سفر مزید مشکل ہو گیا۔

موٹروے کی بندش کے اثرات قریبی علاقوں تک پھیل گئے ہیں اور صوابی شہر کے علاوہ ٹوپی اور غازی روڈ پر بھی ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے،معمول کا سفر کئی گنا طویل ہو چکا ہے اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

ٹریفک حکام کے مطابق صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور متبادل راستوں پر نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کو کنٹرول کیا جا سکے، حکام نے تاحال موٹروے کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا، دوسری جانب مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

شہریوں اور مسافروں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع

حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔

سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق