صوابی انٹرچینج پر دھرنا چوتھے روز بھی جاری، ایم ون موٹروے بند، مسافروں کو شدید مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
صوابی:تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر جاری احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ سڑک بند ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مظاہرین نے انٹرچینج پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں موٹروے پر ٹریفک کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، گاڑیوں میں پھنسے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں جو طویل انتظار، خوراک و پانی کی کمی اور تاخیر کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، بعض مسافروں نے متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی مگر وہاں بھی شدید رش کے باعث سفر مزید مشکل ہو گیا۔
موٹروے کی بندش کے اثرات قریبی علاقوں تک پھیل گئے ہیں اور صوابی شہر کے علاوہ ٹوپی اور غازی روڈ پر بھی ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے،معمول کا سفر کئی گنا طویل ہو چکا ہے اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹریفک حکام کے مطابق صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور متبادل راستوں پر نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کو کنٹرول کیا جا سکے، حکام نے تاحال موٹروے کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا، دوسری جانب مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
شہریوں اور مسافروں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932