زمین پر ایلیئنز کے آنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، باراک اوباما کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایلیئنز سے متعلق اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر خلائی مخلوق کی آمد کے امکانات کم ہیں اور انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں ایسی کسی چیز کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔
اوباما نے یہ بات ایک پوڈکاسٹ میں میزبان برائن ٹائلر کوہن کے سوال کے جواب میں کہی تھی، جہاں تیز رفتار سوال و جواب کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایلیئنز حقیقت میں موجود ہیں۔ اس پر انہوں نے ہلکے انداز میں جواب دیا کہ ایلیئنز حقیقت میں ہوتے ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا، جسے مختلف میڈیا اداروں اور سوشل میڈیا صارفین نے وسیع پیمانے پر شیئر کیا اور یہ بیان تیزی سے وائرل ہوگیا۔
بعد ازاں سابق صدر نے وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جواب لائٹننگ راؤنڈ کے انداز کے مطابق تھا جس میں فوری اور مختصر ردعمل دیا جاتا ہے، سائنسی اعتبار سے کائنات اتنی وسیع ہے کہ کہیں نہ کہیں زندگی کے امکانات موجود ہو سکتے ہیں، اس بات کا کوئی مصدقہ ثبوت نہیں کہ خلائی مخلوق نے زمین کا دورہ کیا ہو یا انسانوں سے رابطہ کیا ہو۔
اوباما نے ایک اور مشہور مفروضے کی بھی تردید کی کہ امریکی فوجی اڈے ایریا 51 میں کسی خلائی مخلوق کو رکھا گیا ہے یا وہاں زیر زمین خفیہ تنصیبات موجود ہیں، ایسی باتوں کی حقیقت سے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔
سابق امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ چونکہ ان کے ابتدائی جواب کو غیر معمولی توجہ ملی اس لیے وضاحت ضروری تھی، فلکیاتی فاصلے اس قدر زیادہ ہیں کہ کسی دوسری مخلوق کا زمین تک پہنچنا سائنسی لحاظ سے نہایت مشکل امر ہے۔
ماہرین فلکیات کے مطابق بھی کائنات میں ممکنہ زندگی کا تصور سائنسی تحقیق کا حصہ ضرور ہے لیکن اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود یا رابطے کا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت دستیاب نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کوئی
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز