سعودی یومِ تاسیس: تاریخی بنیاد، معاصر سمت
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ریاست کی تشکیل کو اگر نظریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ ایک تدریجی اور منظم عمل کا حاصل ہوتی ہے جس میں سیاسی مرکزیت، ادارہ جاتی ارتقا اور اجتماعی مشروعیت باہم مربوط عناصر کے طور پر کام کرتے ہیں۔
سعودی عرب کا یومِ تاسیس، جو 22 فروری کو منایا جاتا ہے، اسی تدریجی عمل کی ابتداء کی علامت ہے۔ 1727 میں امام محمد بن سعود کی قیادت میں درعیہ میں قائم ہونے والی پہلی سعودی ریاست کو ایک مقامی سیاسی واقعہ سمجھنا اس کے تاریخی اور نظری مفہوم کو محدود کر دینا ہوگا۔ اسے ایک ایسے سیاسی نظم کے آغاز کے طور پر دیکھنا زیادہ موزوں ہے جس نے جزیرہ عرب میں مرکزیت اور استحکام کی سمت متعین کی۔
اٹھارویں صدی کے عرب معاشرے میں اقتدار زیادہ تر قبائلی ساخت میں منقسم تھا جہاں سیاسی اختیار مقامی سطح پر مرتکز تھا اور وسیع تر مرکزیت کا تصور کمزور تھا۔ ایسے ماحول میں درعیہ کو ایک منظم سیاسی مرکز کے طور پر ابھارنا ریاستی شعور کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ یہاں اقتدار کو شخصی غلبے سے بلند کر کے نظم، قانون اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے وابستہ کیا گیا۔ ریاستی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں یہی تبدیلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی سے ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد پڑتی ہے۔
درعیہ کا جغرافیہ بھی اس عمل میں محض پس منظر نہیں بلکہ فعال عنصر تھا۔ نجد کے قلب میں واقع یہ مقام داخلی آبادیوں اور تجارتی راستوں کے درمیان ایک ربطی حیثیت رکھتا تھا۔ سیاسی مرکزیت کے قیام کے لیے ایسا جغرافیائی مقام جو انتظامی رسائی اور سماجی رابطے کو ممکن بنائے، غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاستی ارتقا ہمیشہ کسی جغرافیائی مرکز سے آغاز کرتا ہے جو بتدریج انتظامی وسعت اور سماجی انضمام کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس تناظر میں یومِ تاسیس سیاسی جغرافیہ کی تشکیل کا بھی حوالہ ہے۔
1932 میں مملکت سعودی عرب کا قیام اسی طویل تاریخی عمل کی تکمیل تھا جس کی ابتدائی بنیاد 1727 میں رکھی گئی تھی۔ یومِ تاسیس اور قومی دن کے درمیان فرق محض تقویمی نہیں بلکہ معنوی ہے۔ قومی دن رسمی قیام کی علامت ہے جبکہ یومِ تاسیس اس فکری اور سیاسی مرحلے کی یاد دہانی ہے جہاں سے ریاستی نظم کا آغاز ہوا۔ یہ امتیاز اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اپنی ابتدا کو شعوری طور پر اپنی شناخت کا حصہ بناتی ہے اور تاریخی تسلسل کو مشروعیت کے ذریعہ میں تبدیل کرتی ہے۔
1938 میں دمام کے مقام پر تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی جہت دی، لیکن سیاسی معیشت کے اصول کے مطابق وسائل بذات خود استحکام کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ریاست وسائل کو کس حد تک ادارہ جاتی نظم میں منتقل کرتی ہے۔ سعودی عرب نے تیل کی آمدنی کو بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور شہری ترقی میں منظم انداز سے سرمایہ کاری کے ذریعے استعمال کیا۔ یہ منتقلی محض معاشی وسعت نہیں بلکہ ریاستی تنظیم کی مضبوطی کا ذریعہ بنی۔ جدید انتظامی ڈھانچوں، منصوبہ بندی اور شہری ارتقا نے ریاستی استحکام کو تقویت دی اور مرکزیت کو پائیدار بنایا۔
اکیسویں صدی میں Vision 2030 کو اسی تاریخی تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ محض معاشی اصلاحات کا پروگرام نہیں بلکہ ریاستی حکمت عملی کی ازسرنو ترتیب ہے۔ معیشت کی تنوع پذیری، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، ثقافتی وسیاحتی شعبوں کی ترقی اور عالمی شراکت داری کی توسیع اس امر کی علامت ہیں کہ ریاست اپنے ارتقائی عمل کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔ الدرعیہ کی تاریخی بحالی اس بات کی مثال ہے کہ روایت کو جدید ریاستی بیانیے سے الگ نہیں کیا گیا بلکہ اسے ریاستی شناخت کا تسلسل بنایا گیا ہے۔
ریاستی مشروعیت کسی ایک اعلان سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ تاریخی تسلسل، سماجی قبولیت اور ادارہ جاتی استحکام کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ سعودی تجربہ اس اعتبار سے قابل مطالعہ ہے کہ اس میں ابتدائی مرکزیت کو بتدریج ایک جامع ریاستی نظم میں تبدیل کیا گیا اور اجتماعی شناخت کو اس کے ساتھ مربوط رکھا گیا۔ یومِ تاسیس اسی شعوری یادداشت کا حصہ ہے جس کے ذریعے ریاست اپنی ابتدا کو حال اور مستقبل کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اسی تاریخی اور نظری تناظر میں قابل فہم ہیں۔ 1947 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط قائم ہوے اور وقت کے ساتھ اقتصادی، دفاعی اور سماجی سطح پر یہ تعلق مضبوط ہوتا گیا۔ لاکھوں پاکستانیوں کی سعودی عرب میں موجودگی نے اس ربط کو انسانی اور عملی جہت دی۔ اس پس منظر میں یومِ تاسیس ایک ایسے ریاستی ارتقا کی علامت ہے جسے پاکستانی قاری بھی نظریاتی اور سیاسی سطح پر سمجھ سکتا ہے۔
یومِ تاسیس کو ایک یادگاری تقریب کے بجائے ریاستی تشکیل کے اولین مرحلے کی شعوری بازیافت کے طور پر سمجھنا زیادہ موزوں ہے۔ 1727 سے موجودہ عہد تک کا سفر ایک تدریجی، منظم اور فکری عمل کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مرکزیت، ادارہ سازی اور اسٹریٹجک بصیرت باہم مربوط رہے ہیں۔ ریاست کی تشکیل ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کا منظم اظہار ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں یومِ تاسیس ریاستی تشخص کے ابتدائی مرحلے کی تجدید اور سیاسی نظم کے ارتقائی عمل کی علمی تفہیم کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈاکٹر طلحہ الکشمیری اقوام متحدہ، پاک عرب تعلقات، انسانی حقوق، جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلق امور پر حقائق پر مبنی تجزیاتی اور محققانہ تحریریں قلم بند کرتے ہیں، اردو، اور عربی زبان و ادب کے ساتھ گہری مناسبت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تاریخی تسلسل ادارہ جاتی نہیں بلکہ کے طور پر کی تشکیل کی علامت کہ ریاست کرتا ہے کے ساتھ عمل کی
پڑھیں:
جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔
آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔
نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔
یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔
زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔
آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟
یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟
دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔