WE News:
2026-07-24@00:57:52 GMT

سعودی یومِ تاسیس: تاریخی بنیاد، معاصر سمت

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT

ریاست کی تشکیل کو اگر نظریاتی زاویے سے دیکھا جائے تو وہ کسی ایک لمحے کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ ایک تدریجی اور منظم عمل کا حاصل ہوتی ہے جس میں سیاسی مرکزیت، ادارہ جاتی ارتقا اور اجتماعی مشروعیت باہم مربوط عناصر کے طور پر کام کرتے ہیں۔

سعودی عرب کا یومِ تاسیس، جو 22 فروری کو منایا جاتا ہے، اسی تدریجی عمل کی ابتداء کی علامت ہے۔ 1727 میں امام محمد بن سعود کی قیادت میں درعیہ میں قائم ہونے والی پہلی سعودی ریاست کو ایک مقامی سیاسی واقعہ سمجھنا اس کے تاریخی اور نظری مفہوم کو محدود کر دینا ہوگا۔ اسے ایک ایسے سیاسی نظم کے آغاز کے طور پر دیکھنا زیادہ موزوں ہے جس نے جزیرہ عرب میں مرکزیت اور استحکام کی سمت متعین کی۔

اٹھارویں صدی کے عرب معاشرے میں اقتدار زیادہ تر قبائلی ساخت میں منقسم تھا جہاں سیاسی اختیار مقامی سطح پر مرتکز تھا اور وسیع تر مرکزیت کا تصور کمزور تھا۔ ایسے ماحول میں درعیہ کو ایک منظم سیاسی مرکز کے طور پر ابھارنا ریاستی شعور کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ یہاں اقتدار کو شخصی غلبے سے بلند کر کے نظم، قانون اور اجتماعی ذمہ داری کے تصور سے وابستہ کیا گیا۔ ریاستی تشکیل کے ابتدائی مراحل میں یہی تبدیلی بنیادی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اسی سے ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد پڑتی ہے۔

درعیہ کا جغرافیہ بھی اس عمل میں محض پس منظر نہیں بلکہ فعال عنصر تھا۔ نجد کے قلب میں واقع یہ مقام داخلی آبادیوں اور تجارتی راستوں کے درمیان ایک ربطی حیثیت رکھتا تھا۔ سیاسی مرکزیت کے قیام کے لیے ایسا جغرافیائی مقام جو انتظامی رسائی اور سماجی رابطے کو ممکن بنائے، غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ریاستی ارتقا ہمیشہ کسی جغرافیائی مرکز سے آغاز کرتا ہے جو بتدریج انتظامی وسعت اور سماجی انضمام کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس تناظر میں یومِ تاسیس سیاسی جغرافیہ کی تشکیل کا بھی حوالہ ہے۔

1932  میں مملکت سعودی عرب کا قیام اسی طویل تاریخی عمل کی تکمیل تھا جس کی ابتدائی بنیاد 1727 میں رکھی گئی تھی۔ یومِ تاسیس اور قومی دن کے درمیان فرق محض تقویمی نہیں بلکہ معنوی ہے۔ قومی دن رسمی قیام کی علامت ہے جبکہ یومِ تاسیس اس فکری اور سیاسی مرحلے کی یاد دہانی ہے جہاں سے ریاستی نظم کا آغاز ہوا۔ یہ امتیاز اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اپنی ابتدا کو شعوری طور پر اپنی شناخت کا حصہ بناتی ہے اور تاریخی تسلسل کو مشروعیت کے ذریعہ میں تبدیل کرتی ہے۔

1938  میں دمام کے مقام پر تیل کی دریافت نے سعودی معیشت کو نئی جہت دی، لیکن سیاسی معیشت کے اصول کے مطابق وسائل بذات خود استحکام کی ضمانت نہیں ہوتے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ریاست وسائل کو کس حد تک ادارہ جاتی نظم میں منتقل کرتی ہے۔ سعودی عرب نے تیل کی آمدنی کو بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور شہری ترقی میں منظم انداز سے سرمایہ کاری کے ذریعے استعمال کیا۔ یہ منتقلی محض معاشی وسعت نہیں بلکہ ریاستی تنظیم کی مضبوطی کا ذریعہ بنی۔ جدید انتظامی ڈھانچوں، منصوبہ بندی اور شہری ارتقا نے ریاستی استحکام کو تقویت دی اور مرکزیت کو پائیدار بنایا۔

اکیسویں صدی میں Vision 2030 کو اسی تاریخی تسلسل میں دیکھا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ محض معاشی اصلاحات کا پروگرام نہیں بلکہ ریاستی حکمت عملی کی ازسرنو ترتیب ہے۔ معیشت کی تنوع پذیری، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری، ثقافتی وسیاحتی شعبوں کی ترقی اور عالمی شراکت داری کی توسیع اس امر کی علامت ہیں کہ ریاست اپنے ارتقائی عمل کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہی ہے۔ الدرعیہ کی تاریخی بحالی اس بات کی مثال ہے کہ روایت کو جدید ریاستی بیانیے سے الگ نہیں کیا گیا بلکہ اسے ریاستی شناخت کا تسلسل بنایا گیا ہے۔

ریاستی مشروعیت کسی ایک اعلان سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ تاریخی تسلسل، سماجی قبولیت اور ادارہ جاتی استحکام کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ سعودی تجربہ اس اعتبار سے قابل مطالعہ ہے کہ اس میں ابتدائی مرکزیت کو بتدریج ایک جامع ریاستی نظم میں تبدیل کیا گیا اور اجتماعی شناخت کو اس کے ساتھ مربوط رکھا گیا۔ یومِ تاسیس اسی شعوری یادداشت کا حصہ ہے جس کے ذریعے ریاست اپنی ابتدا کو حال اور مستقبل کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اسی تاریخی اور نظری تناظر میں قابل فہم ہیں۔ 1947 کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط قائم ہوے اور وقت کے ساتھ اقتصادی، دفاعی اور سماجی سطح پر یہ تعلق مضبوط ہوتا گیا۔ لاکھوں پاکستانیوں کی سعودی عرب میں موجودگی نے اس ربط کو انسانی اور عملی جہت دی۔ اس پس منظر میں یومِ تاسیس ایک ایسے ریاستی ارتقا کی علامت ہے جسے پاکستانی قاری بھی نظریاتی اور سیاسی سطح پر سمجھ سکتا ہے۔

یومِ تاسیس کو ایک یادگاری تقریب کے بجائے ریاستی تشکیل کے اولین مرحلے کی شعوری بازیافت کے طور پر سمجھنا زیادہ موزوں ہے۔ 1727 سے موجودہ عہد تک کا سفر ایک تدریجی، منظم اور فکری عمل کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مرکزیت، ادارہ سازی اور اسٹریٹجک بصیرت باہم مربوط رہے ہیں۔ ریاست کی تشکیل ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ تاریخی تسلسل کا منظم اظہار ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں یومِ تاسیس ریاستی تشخص کے ابتدائی مرحلے کی تجدید اور سیاسی نظم کے ارتقائی عمل کی علمی تفہیم کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

طلحہ الکشمیری

ڈاکٹر طلحہ الکشمیری اقوام متحدہ، پاک عرب تعلقات، انسانی حقوق، جنوبی ایشیا اور پاکستان سے متعلق امور پر حقائق پر مبنی تجزیاتی اور محققانہ تحریریں قلم بند کرتے ہیں، اردو، اور عربی زبان و ادب کے ساتھ گہری مناسبت رکھتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تاریخی تسلسل ادارہ جاتی نہیں بلکہ کے طور پر کی تشکیل کی علامت کہ ریاست کرتا ہے کے ساتھ عمل کی

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل