الزام ہے کہ ہم خیال گروپ نے پیسوں کیلئے آئی پی پی میں شمولیت اختیار کی، مہدی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ایک انٹرویو میں گورنر جی بی کا کہنا تھا کہ راجہ جلال ہمارے لئے قابل احترام ہیں، وہ ہمارے علاقے کے راجہ ہیں، باہر یہ بات چل رہی ہے کہ راجہ جلال اور ہمنوا کو استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کیلئے پیسوں کی آفر ہوئی، پیسوں کی بات چلنے کے بعد بہت دکھ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ نے کہا ہے کہ ہم خیال گروپ کو بہت پہلے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے تھی مگر انہوں نے کافی دیر سے اس پارٹی کو جوائن کیا، اب ہم خیال گروپ کے لوگوں پر یہ الزام عائد ہو گیا ہے کہ انہوں نے پیسوں کیلئے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ ہم خیال گروپ کے لوگوں کیلئے بہت بڑی سبکی والی بات ہے کہ انہوں نے چند پیسوں کے لئے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والوں کی ساکھ مجروح ہوئی ہے۔ ایک انٹرویو میں گورنر جی بی کا کہنا تھا کہ راجہ جلال ہمارے لئے قابل احترام ہیں، وہ ہمارے علاقے کے راجہ ہیں، باہر یہ بات چل رہی ہے کہ راجہ جلال اور ہمنوا کو استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کیلئے پیسوں کی آفر ہوئی، پیسوں کی بات چلنے کے بعد بہت دکھ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی سے ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہو گا، اس کی ملک کے دوسرے حصوں میں بھی کوئی وقعت نہیں ہے، یہ دو تین نشستوں والی پارٹی ہے، ہماری پارٹی بہت بڑی پارٹی ہے، ہمارا اس جماعت سے کیا اتحاد ہو سکتا ہے؟ انہوں نے کہاکہ سابق وزیر برقیات مشتاق حسین اور ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عاشق حسین کو پارٹی میں لانے کے بارے مجھ سے کسی قسم کی مشاورت کی گئی اور نہ ہی ان کی شمولیت تک مجھے اس کا علم تھا کیونکہ پارٹی میں لوگوں کو لانے کی ذمہ داری پارٹی کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ کی ہے، ہو سکتا ہے کہ انہوں نے مشتاق حسین اور ان کے بھائی عاشق حسین کو پارٹی میں لانے کیلئے کوشش کی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی ناراضگیوں سے پارٹی کو نقصان ہو گا، سابق سینئر وزیر و پارٹی کے سینئر رہنما محمد جعفر، مشتاق حسین اور ان کے بھائی ڈاکٹر عاشق حسین کی پارٹی میں شمولیت پر ناراض ہیں، ان کی ناراضگیاں دور کرنا ہونگی۔
جعفر تو کیا کسی عام آدمی کے چلے جانے سے بھی پارٹی کو نقصان ہو گا، جن لوگوں نے اپنی پوری زندگی پارٹی کیلئے دی ہو ان کے سائیڈ لائن ہونے سے پارٹی کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا، پارٹی قیادت کو اس بابت سوچ بچار کرنے کی ضرورت ہے۔پارٹی کے سینئر و بزرگ رہنما محمد جعفر کو منانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو پارٹی میں آنے سے روک تو نہیں سکتے مگر اس کیلئے حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن مئی میں ہونگے، ابھی سے الیکشن کے کیا آثار نظر آنے ہیں، الیکشن سے قبل رمضان المبارک آ رہا ہے، الیکشن سے قبل رمضان المبارک کے آثار نظر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف پر پورے ملک میں الیکشن لڑنے پر پابندی عائد ہے، صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں بھی یہ جماعت شاید الیکشن نہ لڑ پائے کیونکہ اس پارٹی کا ابھی تک انٹرا پارٹی الیکشن بھی نہیں ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت میں شمولیت اختیار انہوں نے کہا کہ ہم خیال گروپ کہ راجہ جلال پارٹی کو پارٹی کے پیسوں کی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔