انسداد دہشتگردی عدالت نے جماعت اسلامی کے 30 کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
انسداد دہشتگردی عدالت نے جماعت اسلامی کے 30 کارکنوں کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
جلاؤ گھیراؤ، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے کیس میں گرفتار افراد کو عدالت میں پیش کیا گیا، تمام ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا، جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔
جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ ایف آئی آر میں کوئی ایسی چیز نہیں، جس سے دہشت پھیلنے کا اندیشہ ہو، ایف آئی آر میں فائرنگ کا ذکر ہے لیکن کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا، احتجاج عوامی حق ہے ایف آئی آر سے دہشتگردی کی دفعات ختم کی جائیں۔
دوران سماعت ایک کارکن کی حالت خراب ہوگئی، جسے این آئی سی وی ڈی منتقل کردیا گیا، عدالت نے تفتیشی افسر سے آئندہ سماعت پر مقدمہ کا چالان طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ کراچی میں 14 فروری کو جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی، پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے کو عدالت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔