مہنگائی قابو کرنے کیلئے NCM نے حکومت کو سفارشات ارسال کردیں
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) نیشنل کنزیومر موومنٹ نے مہنگائی کے خاتمے اور پرائس کنٹرول کے لیے صارفین کی نمائندہ کانفرنس میں منظور کرائی گئیں قرارداد اور سفارشات وزیر اعلی سندھ و دیگر متعلقہ وزراء کو ارسال کر دیں- قرارداد کے تجویز کنندہ سید شہزاد مظہر صدر نیشنل کنزیومر موومنٹ سندھ و تائید کنندہ شکیل بیگ کنزیومر رائٹس پروٹیکشن کونسل کے ذمہ دار کے مطابق حکومت سندھ مہنگائی کو قابو کرنے میں ناکام ہے رمضان المبارک سے قبل کمشنرز کے روایتی اور نمائشی اقدامات غریب عوام کو ریلیف نہیں دے پاتے غیر معیاری اشیاء کی فروخت ناپ تول میں کمی اور بے قابو قیمتیں اور ذخیرہ اندوزی عمومی شکایات ہیں کیلا، کینو، امرود و ٹماٹر و دیگر اشیائے خوردونوش ابھی سے مارکیٹ سے غائب کردی گئی ہیں رمضان سے قبل ذخیرہ اندوز منصوبہ بندی کے ساتھ عوام کو لوٹنے کی کاروائی کرتے ہیں- مضر صحت گوشت، وزن کی کمی کے ساتھ دکاندار من مانی قیمتوں پر کھلم کھلا فروخت کرتے ہیں نفاذی ڈھانچہ، سندھ فوڈ اتھارٹی، بیورو سپلائی پرائسز اور اسسٹنٹ کمشنر بے بس نظر اتے ہیں- اس اہم مسئلے پر صارفین کی نمائندہ کانفرنس نے حکومت کی مدد اور صارفین کی سہولت کے لیے تجاویز کے مطابق رمضان سے قبل یو سی مارکیٹ ویجیلنس کمیٹیاں تشکیل دی جائیں- مرکزی جگہوں پر SFA و BSP کے مانیٹرنگ کیمپ لگائے جائیں- رمضان میں پرائس کنٹرول کے لیے بلدیاتی نمائندوں کو بروئے کار لایا جائے- رمضان سے قبل ذخیرہ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔