سکھر،جے یو آئی کا طویل دھرنا ختم کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر(نمائندہ جسارت)جے یو آئی کیجانب سے سکھر پولیس کے سربراہ کے دفتر کے سامنے جاری چار گھنٹے طویل احتجاجی دھرنا ضلعی انتظامیہ کی مداخلت کے بعد ختم کر دیا گیا۔ دھرنے کے خاتمے میں چیئرمین ضلع کونسل سکھر سید کمیل حیدر شاہ نے کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے جے یو آئی کے قائدین سے مذاکرات کیے ، انہوں نے جے یو آئی قیادت سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات سنے اور ضلعی انتظامیہ و پولیس حکام سے رابطہ کر کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی۔ مذاکرات کے بعد جے یو آئی رہنماؤں نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ اپنے وعدوں پر عملدرآمد یقینی بنائے گی، ضلعی انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد جے یو آئی کارکنان پرامن طور پر منتشر ہو گئے، اس موقع پر سید کمیل حیدر شاہ نے کہا کہ ضلع میں تمام سیاسی جماعتوں اور شہریوں کے مسائل کا حل ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور سید مراد علی شاہ کی ہدایات کے مطابق عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کے قیام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع بھر میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس آپریشن جاری ہے جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، اور امن کی بحالی کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جے یو ا ئی
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔