پیٹرنٹی رخصت نہ دینا صنفی امتیاز قرار، اسٹیٹ بینک پر جرمانہ عائد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
اسلام آباد : فوزیہ وقار کی سربراہی میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ بچے کی پیدائش پر والد کو پیٹرنٹی رخصت دینا لازمی ہے اور اس سے انکار صنفی بنیاد پر امتیاز اور ہراسمنٹ کے مترادف ہے۔ وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے پیٹرنٹی رخصت نہ دینے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا۔
فیصلے کے مطابق جرمانے کی رقم میں سے 4 لاکھ روپے شکایت گزار افسر سید باسط علی کو ادا کیے جائیں گے جبکہ ایک لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروانا ہوں گے، متعلقہ افسر کو 30 دن کی پیٹرنٹی رخصت مکمل تنخواہ کے ساتھ فراہم کی جائے۔
کیس کی تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن کے افسر نے پیٹرنٹی رخصت نہ ملنے پر محتسب سے رجوع کیا تھا۔ بینک انتظامیہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ ادارے میں اس حوالے سے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، جس بنیاد پر درخواست مسترد کی گئی، محتسب نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ قانون کے تحت رخصت کی سہولت دینا ادارے کی ذمہ داری ہے اور پالیسی نہ ہونا انکار کا جواز نہیں بن سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ میٹرنٹی رخصت دینا مگر پیٹرنٹی رخصت سے انکار کرنا صنفی امتیاز ہے کیونکہ بچوں کی دیکھ بھال صرف خواتین کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ محتسب کے مطابق پیٹرنٹی رخصت سے انکار نہ صرف والد کے حقوق متاثر کرتا ہے بلکہ بچے کے بہترین مفاد کے بھی خلاف ہے۔
ادارے نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت دی کہ میٹرنٹی اور پیٹرنٹی رخصت سے متعلق قانون 2023 کے مطابق فوری طور پر جامع پالیسی مرتب کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے اور ملازمین کو مساوی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پیٹرنٹی رخصت اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔