صوابی انٹرچینج پر دھرنا چوتھے روز بھی جاری، ایم ون موٹروے بند، مسافروں کو شدید مشکلات
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
صوابی:تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر جاری احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ سڑک بند ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مظاہرین نے انٹرچینج پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں موٹروے پر ٹریفک کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، گاڑیوں میں پھنسے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں جو طویل انتظار، خوراک و پانی کی کمی اور تاخیر کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، بعض مسافروں نے متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی مگر وہاں بھی شدید رش کے باعث سفر مزید مشکل ہو گیا۔
موٹروے کی بندش کے اثرات قریبی علاقوں تک پھیل گئے ہیں اور صوابی شہر کے علاوہ ٹوپی اور غازی روڈ پر بھی ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے،معمول کا سفر کئی گنا طویل ہو چکا ہے اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ٹریفک حکام کے مطابق صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور متبادل راستوں پر نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کو کنٹرول کیا جا سکے، حکام نے تاحال موٹروے کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا، دوسری جانب مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔
شہریوں اور مسافروں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔