صوابی:تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر جاری احتجاج چوتھے روز میں داخل ہو گیا ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ سڑک بند ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مظاہرین نے انٹرچینج پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں موٹروے پر ٹریفک کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، گاڑیوں میں پھنسے مسافروں میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں جو طویل انتظار، خوراک و پانی کی کمی اور تاخیر کے باعث مشکلات کا شکار ہیں، بعض مسافروں نے متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی مگر وہاں بھی شدید رش کے باعث سفر مزید مشکل ہو گیا۔

موٹروے کی بندش کے اثرات قریبی علاقوں تک پھیل گئے ہیں اور صوابی شہر کے علاوہ ٹوپی اور غازی روڈ پر بھی ٹریفک کا غیر معمولی دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے،معمول کا سفر کئی گنا طویل ہو چکا ہے اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

ٹریفک حکام کے مطابق صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور متبادل راستوں پر نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کو کنٹرول کیا جا سکے، حکام نے تاحال موٹروے کھولنے کے حوالے سے کوئی حتمی وقت نہیں دیا، دوسری جانب مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھا جائے گا۔

شہریوں اور مسافروں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ فوری مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی