data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈیوس اکنامی فورم میں پاکستان کی جانب غزہ ٹرمپ پیس بورڈ پر دستخط کے وقت پورے بھارت میں یہ شور مچ گیا تھا کہ بھارت اس بورڈ کا حصہ کیوں نہیں ہے ۔امریکہ، بھارت اور خطے کی بدلتی سفارت کاری کے درمیان یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ کیا بڑے تجارتی سودوں کے پیچھے کشمیر ایک بار پھر عالمی لین دین کا حصہ بن رہا ہے؟
اے ایف پی کے مطابق 14 فروری 2025 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی جا رہی ہے۔
بلومبرگ کے ایک مضمون کے مطابق، انڈیا نے امریکی انتظامیہ کے اندر اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے 500 ارب ڈالر کے پیکیج کا عہد کیا ہے۔ جس کے خطے میں امرکی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
معلوم ہو ا میں اندرون ملک بیشتر سیاسی جماعتوں اور مبصرین نے امریکہ-انڈیا تجارتی ڈیل پر سخت سوال اٹھائے ہیں، بلکہ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ وزیراعظم مودی نے ’بھارت ماتا‘ کو بیچ دیا ہے۔
راہل نے پارلیمان میں اپنی دھواں دار تقریر کے دوران بی جے پی کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے پارٹی کے مالیاتی سودے، تاجر انیل امبانی اور گوتم اڈانی کو بچانے کے لیے انڈیا کے ایک ارب چالیس لاکھ افراد کو بلی چڑھایا ہے، جس کے بعد پارلیمان میں سخت شور اور ہنگامہ برپا ہوا۔گو کہ تجارتی ڈیل کی کچھ تفصیلات مشترکہ بیان میں سامنے آئی ہیں، مگر حزب اختلاف کے مطابق مودی انتظامیہ پوشیدہ عزائم کے بے نقاب ہونے سے ڈر رہی ہے اور اس نے اس معاہدے سے انڈیا کا زرعی شعبہ داؤ پر لگا دیا ہے۔دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مودی نے کشمیر کے بدلے میں تجارتی سودے کا خسارہ برداشت کرنے کا رسک لیا ہے۔

بھارت کو 10مئی 2025ء کی شکست کے بعد ٹرمپ نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خوب تعریفیں کرتے ہوئے ان کے ساتھ پرتعیش لنچ، میٹنگز اور لاکھوں ڈالر کے کرپٹو سودے بھی کر دیے، جس پر انڈیا کے اندر ضرور بے چینی کی لہر دوڑی تھی۔یہ بات واضح ہے کہ باوجود ٹرمپ کی اس دوستی کے، محکمہ خارجہ اور پینٹاگون کا کام کرنے کا اپنا نظام ہے جو مختلف ملکوں کے ساتھ لین دین کے اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے۔مگر مبصرین کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں، انڈیا اور پاکستان، کے ساتھ ان سودوں، دوستیوں اور ملاقاتوں کے پس پردہ بہت کچھ ہے، جس میں تجارت سے زیادہ برصغیر کی جیو سٹریٹجک پوزیشن اور مغربی مفادات کا کردار ہے، اور اس کا تعلق کشمیر کی پوزیشن سے بھی جڑا ہوا ہے۔

حیرانی اس بات پر ہوئی جب تجارتی ڈیل کے فوراً بعد واشنگٹن سے انڈیا کا ایک نقشہ منظر عام پر آگیا، جس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور کچھ شمالی علاقوں کو انڈیا کے حصے کے طور پر دکھایا گیا تھا (تاہم بعد ازاں امریکہ نے پاکستان کی درخواست پر اس غلطی کو تسلیم کرتے ہوئے یہ نقشہ اس ٹویٹ سے ڈیلیٹ کر دیا)۔امریکہ-پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے پس منظر میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا پاکستان کے فیلڈ مارشل کی تعریفیں محض ایک اور ڈھکوسلا تھیں اور کیا پاکستان کو مسئلہ کشمیر سے الگ کرکے پھر دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔

واضح رہے پاکستان 1947 میں برصغیر کے بٹوارے کو جموں و کشمیر کے متنازع علاقے کے حل کیے بغیر ادھورا قرار دیتا ہے۔اس کے برعکس انڈیا نے ماضی کے اپنے بیانیے کو تبدیل کرتے ہوئے 2019 میں کشمیر کی داخلی خودمختاری ختم کرنے کے بعد اس پورے خطے کو ڈوگرہ مملکت کے حصے کے طور پر مانا ہے، بلکہ کافی عرصے سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو حاصل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد کا ارادہ بھی ظاہر کر چکا ہے۔برصغیر کے بٹوارے کے بعد جموں و کشمیر کے مختلف حصے بخرے کر دیے گئے ہیں، حالانکہ 1947 میں تنازعے کی شکل اختیار کرنے کی صورت میں عالمی برادری کی موجودگی میں دونوں ملکوں نے اس کو حل کرنے کا عہد و پیمان کیا تھا، مگر اس پر کبھی عمل پیرا نہیں ہوئے۔
اس مسئلے کی شدت پھر اس وقت محسوس کی گئی جب 2025 میں انڈیا اور پاکستان کے بیچ میں محدود جنگ نے ایسی شدت اختیار کی تھی کہ نوبت ایٹمی جنگ پر پہنچی، جس نے پوری دنیا کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈال دیا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے روکنے کا کریڈٹ لے کر نوبیل انعام کا تقاضہ کیا تھا۔امریکی انتظامیہ کے حالیہ نقشے پر اگرچہ پہلے دونوں ملکوں نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا، گو کہ انڈین میڈیا نے اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، تاہم بہت سے علاقائی مبصرین نے شکوک کا اظہار کیا اور معاہدوں کے پیچھے عزائم کو فاش کرنے کی سعی کی۔

بیشتر کا خیال ہے کہ ٹرمپ نے دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی کھیل کھیلا اور انہیں بہلا پھسلا کر اپنے شرائط اور مفادات کے تحفظ پر مائل کر دیا۔ برصغیر کے کئی سفارت کاروں نے یہاں تک کہہ دیا کہ دونوں ملکوں کے بیچ مسلسل دشمنی کا ٹرمپ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اگر ان ملکوں کے قائدین مخلص اور دیانت دار ہوتے تو پہلے اپنے لوگوں کے مفادات کو ترجیح دے دیتے، جو بظاہر موجودہ لین دین کے پس منظر میں نظر نہیں آ رہا ہے۔
برلن میں مقیم سیاسی تجزیہ کار رخشیت روجرز کا کہنا ہے کہ ’انڈیا نے مسئلہ کشمیر پر خاموشی برتنے کے بدلے میں اپنے زرعی شعبے کے حصے کا سودا کیا۔ ایسا ظاہر ہو رہا تھا کہ عاصم منیر کے ساتھ دوستی کے عوض پاکستان نے کشمیر کو ہر فورم میں اٹھانے کا ٹرمپ سے وعدہ لیا تھا اور خفیہ طور پر انڈیا کو کشمیر مذاکرات پر آمادہ کرنا تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ٹرمپ انتظامیہ سے اشارے مل رہے تھے کہ وہ انڈیا پر دباؤ ڈالنے کے لیے مسئلہ کشمیر اور انسانی حقوق کے معاملے کو دوبارہ اٹھائیں گے، اگر وہ تجارتی معاہدے کی شقوں کو مان کر اس پر دستخط نہیں کرتے، تاہم اس کی باوثوق ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی مگر میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اندرونی طور پر کشمیر پر کوئی ایسی بات ضرور ہوئی ہے جس پر دونوں ملکوں کی سرکاروں نے خاموشی اختیار کی ہے۔
خطے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ سچ ہے تو کشمیر دوبارہ تجارتی لین دین کا حصہ بن گیا ہے اور یہ 1846 کے بعینامہ امرتسر کی بازگشت ہے، جب انگریزوں نے کشمیر کو مہاراجہ گلاب سنگھ کو 75,000 نانک شاہی سکوں میں بیچا تھا، جو اس وقت لاہور کے تخت پر اپنی گرفت قائم کرنا چاہتے تھے۔

تو کیا کشمیر ایک بار پھر لین دین کی شے بن گیا ہے اور کیا اس بار بھی کشمیر کے مسئلے پر خاموشی اختیار کرنے کے بدلے میں انڈیا نے 500 ارب ڈالر کے برابر ڈیل کا ہرجانہ ادا کیا ہے؟
واضح رہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کشمیر کو انڈیا کی کمزوری تصور کرتے ہیں۔ جب بھی انڈیا اپنے مفاد میں خارجی اور اقتصادی پالیسیاں از سرنو ترتیب دینے کا اشارہ دیتا ہے، تو مغرب اسے اس کا کمزور نقطہ ’کشمیر‘ یاد دلاتا ہے۔
انڈیا کے تجارتی معاہدے یا اندرونی عہد و پیمان کے پیچھے کتنے راز چھپے ہیں اس کی تفصیل کا انتظار ہے، مگر تھنک ٹینکس کے بیشتر اداروں میں ان سودوں کا کشمیر سے گہرا تعلق بتایا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے جی کشمیریوں کی مرضی کے بغیر ہو نے والے کسی بھی فیصلے کا حشر و یسا گا جیسے کہ 19اگست 2019ء کی بھارتی ترمیام کا ہوا ہے۔ کشمیر کو نظر انداز کرنے کی انڈیا کی خواہش پر پاکستان کس حد تک تیار ہو سکتا ہے، اس کا اشارہ ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے۔

قاضی جاوید گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: دونوں ملکوں پاکستان کے کشمیر کے کشمیر کو انڈیا کے انڈیا نے لین دین کرنے کے کے ساتھ رہا ہے کے بعد

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی