عمران خان کو کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہوئی تو بیرون ملک بھجوایا جاسکتا ہے،وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-20
راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے اطلاعات بیرسٹر دانیال چودھری نے کہا ہے کہ عمران خان کو اگر کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہوئی زندگی بچانے کے لیے بیرون ملک بھجوایا جاسکتا ہے ورنہ نہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ڈیل کے حوالے سے کوئی بات چیت ہوئی تو پارلیمانی قوتوں سے ہوگی، بانی پی ٹی آئی کو بیرون ملک بھجوانے پر بہت سوال ہوئے، ایک ہی صورت ہے، قانونی شہادت کے بنیاد پر اگر کوئی ایسی جان لیوا بیماری لاحق ہو تو زندگی بچانے کے لیے بیرون ملک بھجوایا جاسکتا ہے ورنہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے علاج کے حوالے سے واضح ہے جو علاج ضروری ہے وہ میسر ہے اور آئندہ بھی میسر ہوگا، حکومت علاج کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے، ان کے سے متعلق پروپیگنڈا جھوٹ نکلا، عمران خان کو جیل میں قانون کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں، ان سے متعلق میڈیکل بورڈ کی تمام سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر بانی کے حواریوں کا ’’پیڈ پروپیگنڈا‘‘جاری ہے، ڈیل اور ڈھیل کے خواہش مند وہ پہلے دن سے ہیں، وہ ہمیشہ بے ساکھیاں ڈھونڈتے ہیں، بات چیت کے لیے تیار ہیں تو وہ پارلیمانی راستہ ہی ہے، بلیک میلنگ قبول نہیں، دھرنے احتجاج کے علاوہ ان کی کوئی ترجیحات نہیں، یہ ملک اور سیاست کے لیے کچھ نہیں کرتے انہیں ریلیف نہیں ملے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
اڈیالا جیل راولپنڈی میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی زوجہ محترمہ کی ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ اسلام ٹائمز۔ اڈیالا جیل راولپنڈی میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔ جیل ذرائع کے مطابق ملاقات کانفرنس روم میں کرائی گئی، ملاقات 50 منٹ تک جاری رہی۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آئے وکلاء اور فیملی ارکان میں سے کسی بھی شخص کو ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔ وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی، شفیع جان، مینا خان آفریدی فیکڑی ناکے پر موجود رہے، بانی کی تینوں بہنیں کارکنان کی کثیر تعداد کے ہمراہ فیکٹری ناکے پر موجود رہیں۔