گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے‘حمیرا طارق
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-14
لاہور (نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کراچی میں جاری پْرامن دھرنے پر حکومتی طاقت کے استعمال، لاٹھی چارج اور شیلنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔پرامن مظاہرین پر تشدد کے ذمے داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کا یہ اقدام جمہوری اقدار کے منافی اور آئینی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت متعدد کارکنان کی گرفتاری اور نہتے مظاہرین پر تشدد قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔ کراچی کے عوام پانی، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی شہری سہولیات کے حصول کے لیے سراپا احتجاج ہیں، مگر حکومت مسائل کے حل کے بجائے آواز دبانے کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے اپنے بیان میں کہا کہ جماعت اسلامی کا احتجاج مکمل طور پر پْرامن اور آئینی دائرے میں ہے۔ کارکنان کے خلاف طاقت کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی مطالبات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جبر اور تشدد سے نہ تو حق کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی کارکنان کے حوصلے پست کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امیر جماعت اسلامی کی کال پر کراچی سمیت ملک بھر میں ہونے والا پْرامن احتجاج عوامی شعور اور بیداری کا مظہر ہے۔ حلقہ خواتین جماعت اسلامی کی کارکنان بھی اس جدوجہد میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں اور آئینی و جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہیں گی۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے مطالبہ کیا کہ کراچی کے شہری مسائل کے حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد انتشار یا فساد کے لیے نہیں بلکہ عوام کے جائز اور آئینی حقوق کے حصول کے لیے ہے، اور یہ جدوجہد پْرامن اور جمہوری طریقے سے جاری رہے گی۔عوامی طاقت ہر جبر پر بھاری ہے، اور ان شا اللہ کراچی کے عوام کو ان کے حقوق دلا کر رہیں گے۔ نیز ڈپٹی سیکرٹریز عطیہ نثار ، ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ، عفت سجاد ، ڈاکٹر زبیدہ جبیں ،عائشہ سید ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید ،ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیا سیل سعدیہ حمنہ اور سیکرٹری اطلاعات فریحہ اشرف نے بھی جماعت اسلامی کے پر امن کارکنان کی گرفتاری ، تشدد اور سندھ حکومت غیر جمہوری طرز عمل پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اور ا ئینی کے لیے
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔