حیدر آباد،نوشہرو فیروز،کاروں ،ٹرالر،موٹرسائیکل میں تصادم،7 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد،پڈعیدن(نمائندہ جسارت) حیدر آباد میںٹھنڈی سڑک پر رانی باغ کے قریب کار اور موٹر سائیکل کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق، تین افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو سول اسپتال حیدرآباد میں علاج کیلیے منتقل کردیا گیا۔ تیز رفتار کار اور موٹر سائیکل کے درمیان ہونے والے خوفناک تصاد م میں جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 70 سالہ عبدالعلیم کے نام سے ہوئی ہے،حادثے کے بعد ریسکیو کے عملے نے تینوں زخمیوں، شفیق، ناصر اور اختر کو سول اسپتال منتقل کردیا جہاں انہیں طبی امداد دی جارہی ہے۔علاوہ ازیں قومی شاہراہ نانگوشاہ اسٹاپ پر خوفناک ٹریفک حادثہ،تیز رفتار ٹرالر نے کار سوار 6افراد کو روند ڈالا، ٹرالر ڈرائیور شدید زخمی۔تفصیلات کے مطابق قومی شاہراہ پر نانگو شاہ اسٹاپ کے قریب تیر رفتار ٹرالر اور کار میں خوفناک حادثہ میں تصادم کے نتیجے میں کار سوار 6 افراد موقع پر ہی لقمہ اجل بن گئے، واقعے کی اطلاع پر پولیس اور ریسکیو ٹیم نے پہنچ کر لاشوں کو اسپتال منتقل کردیا جبکہ ٹرالر ڈرائیور بھی شدید زخمی ہو گیا۔ المناک ٹریفک حادثہ میں جاںبحق ہونے والے افراد میں ندیم علی سولنگی،غلام رسول سولنگی،عبد الحکیم سولنگی،بخشل سولنگی،سہراب سولنگی،کار ڈرائیور منظور بروہی کی شناخت کی گئی ہے،پولیس کے مطابق متوفی افراد کا تعلق لاڑکانہ کے علاقہ قمبر شہداد کوٹ سے بتایا جاتا ہے جولاڑکانہ سے کراچی جارہے تھے کہ حادثہ کا شکار ہو گئے ،حادثہ کے بعد کار مکمل تباہ ہو گئی ہے، پولیس نے ٹرالر تحویل میں لے کر واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے، پولیس نے ضروری کاروائی کی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردیں، واضح رہے کہ ضلع نوشہروفیروز میں قومی شاہراہ کے مرمتی کام کے باعث ٹریفک ون وے ہونے سے ٹریفک حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں، ایک ماہ کے دوران 25 افراد ہلاک ہوچکے ہیں،المناک ٹریفک حادثے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اظہار افسوس کیا ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج و غم متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔