حیدر آباد‘سندھ پبلک سروس کمیشن کے نئے سیکرٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-08-21
حیدرآباد(نمائندہ جسارت)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے نئے سیکرٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو اور میئر حیدرآباد کاشف شورو بھی ان کے ساتھ تھے، چیئرمین محمد وسیم اور اراکین نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کمیشن نے صوبے میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور شفاف، ڈیجیٹل امتحانی نظام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹنگ شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور قابل نوجوان سندھ کا روشن مستقبل ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین نے بتایا کہ ایک ایکڑ اراضی پر 2.
حیدرآباد: وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سندھ پبلک سروس کمیشن سیکرٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔