data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260217-08-21
حیدرآباد(نمائندہ جسارت)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پبلک سروس کمیشن کے نئے سیکرٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات جام خان شورو اور میئر حیدرآباد کاشف شورو بھی ان کے ساتھ تھے، چیئرمین محمد وسیم اور اراکین نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کمیشن نے صوبے میں میرٹ کی بالادستی قائم کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور شفاف، ڈیجیٹل امتحانی نظام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹنگ شفافیت کی جانب ایک بڑا قدم ہے اور قابل نوجوان سندھ کا روشن مستقبل ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین نے بتایا کہ ایک ایکڑ اراضی پر 2.

493 ارب روپے کی لاگت سے جدید کمپلیکس تیار کیا گیا ہے جس میں 300 سے زائد امیدواروں کے لیے ڈیجیٹل لائبریری، سی بی ٹی لیب، آڈیٹوریم، کیفے ٹیریا، جمنازیم اور مسجد کی سہولیات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے کمپلیکس سے دوسری جگہوں پر انحصار کم ہوگا اور ادارہ مزید خود مختار اور مضبوط ہوگا۔بریفنگ کے مطابق جولائی 2022 سے دسمبر 2025 تک کمیشن نے 36 محکموں میں 21,504 بھرتیوں کی سفارش کی جن میں تعلیم میں 8666، صحت اور سماجی بہبود میں 7357، لوکل گورنمنٹ اینڈ کنسٹرکشن میں 1696، لاء اینڈ گورننس میں 1965، ثقافت اور ماحولیات میں 1139، ثقافت اور ماحولیات میں 1134 بھرتیاں شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کمیشن کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ میرٹ، شفافیت اور ڈیجیٹل تبدیلی گورننس کو مضبوط کرتی ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل لائبریری کا معائنہ کیا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔

حیدرآباد: وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ سندھ پبلک سروس کمیشن سیکرٹریٹ کمپلیکس کا افتتاح کررہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن