Jasarat News:
2026-07-24@02:22:17 GMT

پاکستان تسلیم کر لے! بنگلا دیش بڑا بھائی ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260217-03-6
پاکستان کو واضح الفاظ میں بنگلا دیش کو اپنا بڑا بھائی تسلیم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے کیوں؟ اس لیے کہ بنگلا دیشی عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت نے ہر لحاظ سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہم سے ہر طرح بہتر، بلند اور باصلاحیت ہیں، شیخ حسینہ واجد کی ظالمانہ آمریت کے خلاف مربوط و منظم پرجوش تحریک چلنے سے ثابت ہوا کہ بنگلا دیشی قوم ایک زندہ و بیدار قوم ہے ہماری طرح مردہ اور بے شعور نہیں، اوّل تو ہم کوئی ایسی قومی تحریک نہیں چلا پائے اور اگر کوئی مزاحمت تحریک یا جلسے جلوس ہوتے بھی ہیں تو وہ نان ایشوز پر ہوتے ہیں، قوم کو درپیش حقیقی مسائل کے لیے کبھی کوئی تحریک نہیں چلتی۔ عدالتوں سے اختیارات چھین لیے گئے انہیں بے عزت کیا گیا کوئی تحریک نہیں چلی، پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکورٹی اہلکار گھس گئے، ایوان اور ایوان سے تعلق رکھنے والے افراد کی عزت تار تار کی گئی کوئی تحریک نہیں چلی، بنگلا دیش میں حسینہ واجد کا تختہ اُلٹنے کے بعد عنان اقتدار ایک نوبل لاریٹ، دیانت دار، قوم کا درد رکھنے والے ڈاکٹر یونس کے حوالے کی گئی۔ ہمارے یہاں معین قریشی شوکت عزیز جیسے لوگوں کو ملک سونپ دیا گیا جو اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی ملک سے باہر رہتے تھے اور اقتدار ختم ہونے کے فوری بعد ملک سے باہر چلے گئے اور پھر کبھی پاکستان واپس آئے اور نہ پاکستان سے کوئی تعلق رکھا۔

بنگلا دیش میں پورے عبوری دور میں ہر شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رہا اور بڑی آئینی تبدیلیوں کے لیے انتخابات کے دوران ہی ریفرنڈم کرا لیا گیا پاکستان میں ایسے کئی مراحل آئے جب انتخابی و انتظامی اصلاحات کی جا سکتی تھیں لیکن کوئی سنجیدہ نہ ہوا، کبھی حکومت تیار نہیں ہوئی اور جب حکومت تیار ہوئی تو اپوزیشن نے لاتعلقی کا اظہار کیا، نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے انتخابی و انتظامی سسٹم میں اتنی خرابیاں ہیں کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نہ کی جائے تب بھی بہت سی ناانصافیاں کی جا سکتی ہیں۔ بنگلا دیشی قوم کی برتری تسلیم کرنے کا سب سے بڑا سبب انتخابات کے بعد ان کا شاندار طرز عمل ہے ابھی نتائج مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمن کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا، یہ بہت ہی غیر معمولی قدم تھا، یہاں ہم پاکستانی یہ سوچ رہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جماعت اسلامی نے انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اپنی شکست اور بی این پی کی فتح کو تسلیم کیا اس کے جواب میں بی این پی کے سربراہ طارق رحمن خود چل کر جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے گھر گئے ان سے ملاقات کی، طارق رحمن کے ساتھ پارٹی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور مستقل کمیٹی کے رکن نذر الاسلام خان بھی موجود تھے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر سید محمد عبداللہ طاہر اور ایڈوکیٹ احسان المحبوب زبیر نے نمائندگی کی دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت انتہائی خوشگوار اور ہم آہنگ ماحول میں ہوئی جس میں ملکی سلامتی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ جیسے حساس امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کا اتفاق ناگزیر ہے۔

کیا پاکستان میں خیر سگالی اور اعلیٰ ظرفی کے یہ مظاہرے کبھی دیکھنے میں آئے؟ میری یادداشت کے مطابق تو بالکل نہیں، یہاں تو ہر الیکشن کے بعد الزامات، جوابی الزامات، مغلظات، مار دھاڑ کا بازار گرم ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک برسر اقتدار جماعت کو ہٹا کر کسی دوسری جماعت یا شخصیت کو اقتدار کے سنگھاسن پر نہ بٹھا دیا جائے یا ’’صاحب بہادر‘‘ خود تخت پر متمکن نہ ہو جائیں اس لیے پاکستان میں بیش تر حکومتیں مدت پوری ہونے سے پہلے ہی چلتی کر دی گئیں اور جب تک چلتی رہیں لنگڑا کر چلتی رہیں، نہ انہوں نے خود کچھ کیا اور نہ ہی اپوزیشن اور ’’صاحب بہادر‘‘ نے انہیں کچھ کرنے دیا۔

بنگلا دیش جماعت اسلامی یا بی این پی کے خیر سگالی اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہیں، مسائل اور شکایتیں ہیں لیکن انہیں اسی طرح دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا مہذب اقوام میں ہوتا ہے، جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کے پاس 32 حلقوں میں انتخابی دھاندلی کی شکایات درج کرائی ہیں اتوار کو پیش کی گئی درخواست میں جماعت کے سینئر عہدے دار حمید الرحمن آزاد نے الزام لگایا کہ جعلی ووٹ، رشوت، دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا نتائج تسلیم نہ کرنے، ہنگامہ آرائی اور مخالف پارٹی کو اچھی کارکردگی سے روکنے کی غرض سے احتجاجی تحریک چلانے کے لیے چند حلقوں میں دھاندلی کے واقعات ہی بڑی بنیاد ہوتے ہیں یہاں تو 32 حلقوں میں دھاندلی کے الزامات ہیں لیکن کوئی ہنگامہ، مار دھاڑ، ایک دوسرے کے خلاف زہریلی زبان کا استعمال نہیں کیا گیا، جو طریقہ کار طے ہے اس کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ بنگلا دیش 16 دسمبر 1971 کو قائم ہوا اس وقت وہ موجودہ پاکستان (مغربی پاکستان) سے ہر شعبے میں پیچھے تھا لیکن اتنی قلیل مدت میں وہ ہر شعبے میں ہمیں پیچھے چھوڑ گیا ہے، جنہیں کبھی حقارت سے بھوکے بنگالی کہا جاتا تھا وہاں فی کس آمدنی کئی برسوں سے پاکستان سے زیادہ ہے، غربت میں کمی کی رفتار بہتر ہے شرح خواندگی بھی پاکستان سے زیادہ ہے، بچوں کی اموات کی شرح کم ہو گئی ہے، پاکستان کے مقابلے میں بنگلا دیش میں اوسط عمر بڑھ گئی ہے، بنگلا دیش ملبوسات برآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے، اسی طرح بنگلا دیشی ٹکے کی قدر پاکستانی روپے سے زیادہ ہے بنگلا دیش کا ٹکہ اوسطاً 2.

3 پاکستانی روپوں کے برابر بنتا ہے، بنگلا دیش کی ترقی اور خوشحالی پر یقینا ہمیں خوشی کا اظہار کرنا چاہیے لیکن ساتھ ہی ہمیں ان کی ترقی کے اسباب، ان کے طرز عمل، ان کے طریقہ کار کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے دماغ سے بڑائی کا خناس نکال کر ان کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے اور کھل کر اظہار کرنا چاہیے کہ پیارے بنگلا دیشیو! تم ہمارے بڑے بھائی ہو۔

احمد حسن سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک نہیں بنگلا دیشی بنگلا دیش کی گئی کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف