Jasarat News:
2026-06-02@22:04:50 GMT

پاکستان تسلیم کر لے! بنگلا دیش بڑا بھائی ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260217-03-6
پاکستان کو واضح الفاظ میں بنگلا دیش کو اپنا بڑا بھائی تسلیم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے کیوں؟ اس لیے کہ بنگلا دیشی عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت نے ہر لحاظ سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہم سے ہر طرح بہتر، بلند اور باصلاحیت ہیں، شیخ حسینہ واجد کی ظالمانہ آمریت کے خلاف مربوط و منظم پرجوش تحریک چلنے سے ثابت ہوا کہ بنگلا دیشی قوم ایک زندہ و بیدار قوم ہے ہماری طرح مردہ اور بے شعور نہیں، اوّل تو ہم کوئی ایسی قومی تحریک نہیں چلا پائے اور اگر کوئی مزاحمت تحریک یا جلسے جلوس ہوتے بھی ہیں تو وہ نان ایشوز پر ہوتے ہیں، قوم کو درپیش حقیقی مسائل کے لیے کبھی کوئی تحریک نہیں چلتی۔ عدالتوں سے اختیارات چھین لیے گئے انہیں بے عزت کیا گیا کوئی تحریک نہیں چلی، پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکورٹی اہلکار گھس گئے، ایوان اور ایوان سے تعلق رکھنے والے افراد کی عزت تار تار کی گئی کوئی تحریک نہیں چلی، بنگلا دیش میں حسینہ واجد کا تختہ اُلٹنے کے بعد عنان اقتدار ایک نوبل لاریٹ، دیانت دار، قوم کا درد رکھنے والے ڈاکٹر یونس کے حوالے کی گئی۔ ہمارے یہاں معین قریشی شوکت عزیز جیسے لوگوں کو ملک سونپ دیا گیا جو اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی ملک سے باہر رہتے تھے اور اقتدار ختم ہونے کے فوری بعد ملک سے باہر چلے گئے اور پھر کبھی پاکستان واپس آئے اور نہ پاکستان سے کوئی تعلق رکھا۔

بنگلا دیش میں پورے عبوری دور میں ہر شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رہا اور بڑی آئینی تبدیلیوں کے لیے انتخابات کے دوران ہی ریفرنڈم کرا لیا گیا پاکستان میں ایسے کئی مراحل آئے جب انتخابی و انتظامی اصلاحات کی جا سکتی تھیں لیکن کوئی سنجیدہ نہ ہوا، کبھی حکومت تیار نہیں ہوئی اور جب حکومت تیار ہوئی تو اپوزیشن نے لاتعلقی کا اظہار کیا، نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے انتخابی و انتظامی سسٹم میں اتنی خرابیاں ہیں کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نہ کی جائے تب بھی بہت سی ناانصافیاں کی جا سکتی ہیں۔ بنگلا دیشی قوم کی برتری تسلیم کرنے کا سب سے بڑا سبب انتخابات کے بعد ان کا شاندار طرز عمل ہے ابھی نتائج مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمن کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا، یہ بہت ہی غیر معمولی قدم تھا، یہاں ہم پاکستانی یہ سوچ رہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جماعت اسلامی نے انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اپنی شکست اور بی این پی کی فتح کو تسلیم کیا اس کے جواب میں بی این پی کے سربراہ طارق رحمن خود چل کر جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے گھر گئے ان سے ملاقات کی، طارق رحمن کے ساتھ پارٹی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور مستقل کمیٹی کے رکن نذر الاسلام خان بھی موجود تھے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر سید محمد عبداللہ طاہر اور ایڈوکیٹ احسان المحبوب زبیر نے نمائندگی کی دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت انتہائی خوشگوار اور ہم آہنگ ماحول میں ہوئی جس میں ملکی سلامتی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ جیسے حساس امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کا اتفاق ناگزیر ہے۔

کیا پاکستان میں خیر سگالی اور اعلیٰ ظرفی کے یہ مظاہرے کبھی دیکھنے میں آئے؟ میری یادداشت کے مطابق تو بالکل نہیں، یہاں تو ہر الیکشن کے بعد الزامات، جوابی الزامات، مغلظات، مار دھاڑ کا بازار گرم ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک برسر اقتدار جماعت کو ہٹا کر کسی دوسری جماعت یا شخصیت کو اقتدار کے سنگھاسن پر نہ بٹھا دیا جائے یا ’’صاحب بہادر‘‘ خود تخت پر متمکن نہ ہو جائیں اس لیے پاکستان میں بیش تر حکومتیں مدت پوری ہونے سے پہلے ہی چلتی کر دی گئیں اور جب تک چلتی رہیں لنگڑا کر چلتی رہیں، نہ انہوں نے خود کچھ کیا اور نہ ہی اپوزیشن اور ’’صاحب بہادر‘‘ نے انہیں کچھ کرنے دیا۔

بنگلا دیش جماعت اسلامی یا بی این پی کے خیر سگالی اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہیں، مسائل اور شکایتیں ہیں لیکن انہیں اسی طرح دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا مہذب اقوام میں ہوتا ہے، جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کے پاس 32 حلقوں میں انتخابی دھاندلی کی شکایات درج کرائی ہیں اتوار کو پیش کی گئی درخواست میں جماعت کے سینئر عہدے دار حمید الرحمن آزاد نے الزام لگایا کہ جعلی ووٹ، رشوت، دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا نتائج تسلیم نہ کرنے، ہنگامہ آرائی اور مخالف پارٹی کو اچھی کارکردگی سے روکنے کی غرض سے احتجاجی تحریک چلانے کے لیے چند حلقوں میں دھاندلی کے واقعات ہی بڑی بنیاد ہوتے ہیں یہاں تو 32 حلقوں میں دھاندلی کے الزامات ہیں لیکن کوئی ہنگامہ، مار دھاڑ، ایک دوسرے کے خلاف زہریلی زبان کا استعمال نہیں کیا گیا، جو طریقہ کار طے ہے اس کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔

اس کے ساتھ ہی یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ بنگلا دیش 16 دسمبر 1971 کو قائم ہوا اس وقت وہ موجودہ پاکستان (مغربی پاکستان) سے ہر شعبے میں پیچھے تھا لیکن اتنی قلیل مدت میں وہ ہر شعبے میں ہمیں پیچھے چھوڑ گیا ہے، جنہیں کبھی حقارت سے بھوکے بنگالی کہا جاتا تھا وہاں فی کس آمدنی کئی برسوں سے پاکستان سے زیادہ ہے، غربت میں کمی کی رفتار بہتر ہے شرح خواندگی بھی پاکستان سے زیادہ ہے، بچوں کی اموات کی شرح کم ہو گئی ہے، پاکستان کے مقابلے میں بنگلا دیش میں اوسط عمر بڑھ گئی ہے، بنگلا دیش ملبوسات برآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے، اسی طرح بنگلا دیشی ٹکے کی قدر پاکستانی روپے سے زیادہ ہے بنگلا دیش کا ٹکہ اوسطاً 2.

3 پاکستانی روپوں کے برابر بنتا ہے، بنگلا دیش کی ترقی اور خوشحالی پر یقینا ہمیں خوشی کا اظہار کرنا چاہیے لیکن ساتھ ہی ہمیں ان کی ترقی کے اسباب، ان کے طرز عمل، ان کے طریقہ کار کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنے دماغ سے بڑائی کا خناس نکال کر ان کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے اور کھل کر اظہار کرنا چاہیے کہ پیارے بنگلا دیشیو! تم ہمارے بڑے بھائی ہو۔

احمد حسن سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک نہیں بنگلا دیشی بنگلا دیش کی گئی کے لیے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ