پاکستان تسلیم کر لے! بنگلا دیش بڑا بھائی ہے
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کو واضح الفاظ میں بنگلا دیش کو اپنا بڑا بھائی تسلیم کرنے کا اعلان کر دینا چاہیے کیوں؟ اس لیے کہ بنگلا دیشی عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت نے ہر لحاظ سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہم سے ہر طرح بہتر، بلند اور باصلاحیت ہیں، شیخ حسینہ واجد کی ظالمانہ آمریت کے خلاف مربوط و منظم پرجوش تحریک چلنے سے ثابت ہوا کہ بنگلا دیشی قوم ایک زندہ و بیدار قوم ہے ہماری طرح مردہ اور بے شعور نہیں، اوّل تو ہم کوئی ایسی قومی تحریک نہیں چلا پائے اور اگر کوئی مزاحمت تحریک یا جلسے جلوس ہوتے بھی ہیں تو وہ نان ایشوز پر ہوتے ہیں، قوم کو درپیش حقیقی مسائل کے لیے کبھی کوئی تحریک نہیں چلتی۔ عدالتوں سے اختیارات چھین لیے گئے انہیں بے عزت کیا گیا کوئی تحریک نہیں چلی، پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکورٹی اہلکار گھس گئے، ایوان اور ایوان سے تعلق رکھنے والے افراد کی عزت تار تار کی گئی کوئی تحریک نہیں چلی، بنگلا دیش میں حسینہ واجد کا تختہ اُلٹنے کے بعد عنان اقتدار ایک نوبل لاریٹ، دیانت دار، قوم کا درد رکھنے والے ڈاکٹر یونس کے حوالے کی گئی۔ ہمارے یہاں معین قریشی شوکت عزیز جیسے لوگوں کو ملک سونپ دیا گیا جو اقتدار سنبھالنے سے پہلے بھی ملک سے باہر رہتے تھے اور اقتدار ختم ہونے کے فوری بعد ملک سے باہر چلے گئے اور پھر کبھی پاکستان واپس آئے اور نہ پاکستان سے کوئی تعلق رکھا۔
بنگلا دیش میں پورے عبوری دور میں ہر شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری رہا اور بڑی آئینی تبدیلیوں کے لیے انتخابات کے دوران ہی ریفرنڈم کرا لیا گیا پاکستان میں ایسے کئی مراحل آئے جب انتخابی و انتظامی اصلاحات کی جا سکتی تھیں لیکن کوئی سنجیدہ نہ ہوا، کبھی حکومت تیار نہیں ہوئی اور جب حکومت تیار ہوئی تو اپوزیشن نے لاتعلقی کا اظہار کیا، نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے انتخابی و انتظامی سسٹم میں اتنی خرابیاں ہیں کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نہ کی جائے تب بھی بہت سی ناانصافیاں کی جا سکتی ہیں۔ بنگلا دیشی قوم کی برتری تسلیم کرنے کا سب سے بڑا سبب انتخابات کے بعد ان کا شاندار طرز عمل ہے ابھی نتائج مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ جماعت اسلامی بنگلا دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمن کو ان کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا وعدہ کیا، یہ بہت ہی غیر معمولی قدم تھا، یہاں ہم پاکستانی یہ سوچ رہے تھے کہ جماعت اسلامی انتخابی دھاندلیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کا اعلان کرے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا جماعت اسلامی نے انتہائی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر اپنی شکست اور بی این پی کی فتح کو تسلیم کیا اس کے جواب میں بی این پی کے سربراہ طارق رحمن خود چل کر جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے گھر گئے ان سے ملاقات کی، طارق رحمن کے ساتھ پارٹی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور مستقل کمیٹی کے رکن نذر الاسلام خان بھی موجود تھے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے نائب امیر سید محمد عبداللہ طاہر اور ایڈوکیٹ احسان المحبوب زبیر نے نمائندگی کی دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت انتہائی خوشگوار اور ہم آہنگ ماحول میں ہوئی جس میں ملکی سلامتی، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ جیسے حساس امور پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ حالات میں ملک کو سیاسی انتشار سے نکالنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کا اتفاق ناگزیر ہے۔
کیا پاکستان میں خیر سگالی اور اعلیٰ ظرفی کے یہ مظاہرے کبھی دیکھنے میں آئے؟ میری یادداشت کے مطابق تو بالکل نہیں، یہاں تو ہر الیکشن کے بعد الزامات، جوابی الزامات، مغلظات، مار دھاڑ کا بازار گرم ہو جاتا ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک برسر اقتدار جماعت کو ہٹا کر کسی دوسری جماعت یا شخصیت کو اقتدار کے سنگھاسن پر نہ بٹھا دیا جائے یا ’’صاحب بہادر‘‘ خود تخت پر متمکن نہ ہو جائیں اس لیے پاکستان میں بیش تر حکومتیں مدت پوری ہونے سے پہلے ہی چلتی کر دی گئیں اور جب تک چلتی رہیں لنگڑا کر چلتی رہیں، نہ انہوں نے خود کچھ کیا اور نہ ہی اپوزیشن اور ’’صاحب بہادر‘‘ نے انہیں کچھ کرنے دیا۔
بنگلا دیش جماعت اسلامی یا بی این پی کے خیر سگالی اقدامات کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہیں، مسائل اور شکایتیں ہیں لیکن انہیں اسی طرح دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا مہذب اقوام میں ہوتا ہے، جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کے پاس 32 حلقوں میں انتخابی دھاندلی کی شکایات درج کرائی ہیں اتوار کو پیش کی گئی درخواست میں جماعت کے سینئر عہدے دار حمید الرحمن آزاد نے الزام لگایا کہ جعلی ووٹ، رشوت، دھمکیوں اور حملوں کی وجہ سے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا نتائج تسلیم نہ کرنے، ہنگامہ آرائی اور مخالف پارٹی کو اچھی کارکردگی سے روکنے کی غرض سے احتجاجی تحریک چلانے کے لیے چند حلقوں میں دھاندلی کے واقعات ہی بڑی بنیاد ہوتے ہیں یہاں تو 32 حلقوں میں دھاندلی کے الزامات ہیں لیکن کوئی ہنگامہ، مار دھاڑ، ایک دوسرے کے خلاف زہریلی زبان کا استعمال نہیں کیا گیا، جو طریقہ کار طے ہے اس کے مطابق عمل کیا جا رہا ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ بنگلا دیش 16 دسمبر 1971 کو قائم ہوا اس وقت وہ موجودہ پاکستان (مغربی پاکستان) سے ہر شعبے میں پیچھے تھا لیکن اتنی قلیل مدت میں وہ ہر شعبے میں ہمیں پیچھے چھوڑ گیا ہے، جنہیں کبھی حقارت سے بھوکے بنگالی کہا جاتا تھا وہاں فی کس آمدنی کئی برسوں سے پاکستان سے زیادہ ہے، غربت میں کمی کی رفتار بہتر ہے شرح خواندگی بھی پاکستان سے زیادہ ہے، بچوں کی اموات کی شرح کم ہو گئی ہے، پاکستان کے مقابلے میں بنگلا دیش میں اوسط عمر بڑھ گئی ہے، بنگلا دیش ملبوسات برآمد کرنے والے بڑے ملکوں میں شامل ہے، اسی طرح بنگلا دیشی ٹکے کی قدر پاکستانی روپے سے زیادہ ہے بنگلا دیش کا ٹکہ اوسطاً 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی تحریک نہیں بنگلا دیشی بنگلا دیش کی گئی کے لیے
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز