پاکستان ‘ بنگلا دیش کرکٹ بورڈز میں تعاون کو سراہتے ہیں‘ جماعت اسلامی پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-08-26
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی زیرصدارت مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہم آہنگی اور کرکٹ کھیل کے فروغ کے لیے تعاون کو سراہا ہے۔مجلس شوریٰ نے بھارت کے کرکٹ دشمن اور متعصبانہ رویے و اقدامات پر پاکستان کی بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت کے اقدام کی بھی تحسین کی ہے۔ اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مزدوروں کے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور حکومت سے ان مسائل کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مرکزی مجلس شوریٰ پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مابین بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے کرکٹ کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے خلاف مکمل یکجہتی اور اصولی موقف اپنانے کی حمایت کرتی ہے ۔مجلس شوریٰ نے قرار دیا کہ حکومت پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں ملکی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھے ۔جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ نے اپنی قرارداد میں آئی سی سی سے بھی مطالبہ کیاہے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے کرکٹ کھیل میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے غیر قانونی ،غیر اخلاقی اقدام پر سخت ردعمل دے۔مجلس شوریٰ اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستان میں کھیل اور کھیلوں کے میدان حکومتی غفلت،غلط ترجیحات اور ناقص پالیسیوں کے باعث شدید زوال کا شکار ہیں، ملک بھر میں کھیل کے میدان ختم ہو رہے ہیں ۔اسپورٹس بجٹ برائے نام ہے جبکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے بجائے منفی رحجانات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر شہر اور قصبے میں کھیل کے میدانوں کو قانونی تحفظ دیا جائے۔کھیل کے میدانوں کو کاروباری مقاصد کے استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے ۔اسپورٹس بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور استعمال کو یقینی طور پرشفاف بنایا جائے ۔تعلیمی اداروں میں کھیل لازمی مضمون کے طور پر بحال کیے جائیں ۔نوجوانوں کے لیے صحت مند اور مثبت سرگرمیوں پر مبنی قومی اسپورٹس پالیسی بنائی جائے ۔کھیلوں کے میدانوں پر ناجائز قبضے فوری طور پر ختم کراکر عوام کے لیے کھولے جائیں ۔مرکزی شوریٰ نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ مزدوروں میں سے 83 فیصد دیہاڑی دار اور غیر رسمی (Informal) سیکٹر سے وابستہ ہیں جو مکمل طور پر لیبر قوانین، سماجی تحفظ اور ریاستی کی طرف سے فلاح وبہبود سے محروم ہیں جبکہ بقیہ 17 فیصد فارمل سیکٹر کے وہ مزدور جو لیبر قوانین، سوشل سیکورٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI) اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، انہیں بھی عملاً ان کے آئینی و قانونی حقوق اور مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ مذکورہ اداروں کے فنڈز کنٹری بیوٹری ہیں، یہ حکومت کے بجٹ کا حصہ نہیں بلکہ مزدوروں اور آجران کی مشترکہ رقوم پر مشتمل ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر کرپشن، بدانتظامی اور غیر شفاف غیر قانونی استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان فنڈز کو ’’یتیم کا مال‘‘ سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے اور مؤثر احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں۔اجلاس اس حقیقت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا کے یونین سازی کا دائرہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔ مستقل ملازمتوں کے بجائے ٹھیکیداری و کنٹریکٹ نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اس نظام کے تحت مزدوروں کو اجتماعی سودے بازی، پنشن، سوشل سیکورٹی، طبی سہولیات اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور حفاظتی آلات کی عدم فراہمی کے باعث حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور معذور افراد کی بڑھتی تعداد نہایت تشویشناک ہے۔یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ کم از کم اجرت پر ملک کے تقریباً 90 فیصد اداروں میں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔اوقاتِ کار، اوور ٹائم، ہفتہ وار چھٹی اور چھٹیوں کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔لیبر قوانین میں حالیہ منفی قانون سازی مزدور استحصال میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔خصوصاً یہ اجلاس پنجاب لیبر کوڈ کی 4 فروری کو عجلت میں منظوری کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میںسہ فریقی مشاورتی عمل (حکومت، آجر، مزدور) کو نظر انداز کیا گیا۔حقیقی مزدور نمائندوں اور ملک کی سب سے بڑی مزدور فیڈریشن کو دانستہ طور پر شامل نہیں کیا گیا۔اس اقدام کے ذریعے نہ صرف آئین پاکستان بلکہ آئی ایل او کنونشنز کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔یہ اجلاس اس امر پر بھی تشویش ظاہر کرتا ہے کہ کم آمدنی کے باعث مزدور طبقہ مناسب خوراک سے محروم،صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہے اور اور ان کے بچے تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتوں سے پہلے ہی محروم ہیں۔اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مزدوروں کو لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے دائرہ میں لایا جائے۔سوشل سیکورٹی، EOBI اور ورکرز ویلفیئر فنڈز میں کرپشن کا فوری خاتمہ اور شفاف احتساب کیا جائے۔ٹھیکیداری نظام کو محدود کر کے مستقل روزگار کو فروغ دیا جائے۔کم از کم اجرت، اوقاتِ کار اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔یونین سازی اور اجتماعی سودے بازی کے حق کو آئینی تحفظ دیا جائے۔مزدور دشمن قوانین، بالخصوص پنجاب لیبر کوڈ، کو واپس لے کر ازسرنو مشاورت کی جائے۔تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کو نجکاری سے نکال کر عوامی حق بنایا جائے۔دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور دولت کے ارتکاز کا خاتمہ کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ لیبر قوانین مطالبہ کیا بنایا جائے جا رہا ہے میں کھیل یہ اجلاس کرتا ہے کھیل کے دیا جا کیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔