data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260217-08-26
لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی زیرصدارت مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے درمیان ہم آہنگی اور کرکٹ کھیل کے فروغ کے لیے تعاون کو سراہا ہے۔مجلس شوریٰ نے بھارت کے کرکٹ دشمن اور متعصبانہ رویے و اقدامات پر پاکستان کی بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی حمایت کے اقدام کی بھی تحسین کی ہے۔ اجلاس نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مزدوروں کے مسائل کی نشاندہی کی ہے اور حکومت سے ان مسائل کے حل کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ مرکزی مجلس شوریٰ پاکستان کرکٹ بورڈ اور بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے مابین بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے کرکٹ کھیل کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے خلاف مکمل یکجہتی اور اصولی موقف اپنانے کی حمایت کرتی ہے ۔مجلس شوریٰ نے قرار دیا کہ حکومت پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں ملکی عزت و وقار کو ملحوظ خاطر رکھے ۔جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ نے اپنی قرارداد میں آئی سی سی سے بھی مطالبہ کیاہے کہ وہ اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور بھارتی کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے کرکٹ کھیل میں اپنی اجارہ داری قائم کرنے کے غیر قانونی ،غیر اخلاقی اقدام پر سخت ردعمل دے۔مجلس شوریٰ اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ پاکستان میں کھیل اور کھیلوں کے میدان حکومتی غفلت،غلط ترجیحات اور ناقص پالیسیوں کے باعث شدید زوال کا شکار ہیں، ملک بھر میں کھیل کے میدان ختم ہو رہے ہیں ۔اسپورٹس بجٹ برائے نام ہے جبکہ نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے بجائے منفی رحجانات کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔ مجلس شوریٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہر شہر اور قصبے میں کھیل کے میدانوں کو قانونی تحفظ دیا جائے۔کھیل کے میدانوں کو کاروباری مقاصد کے استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے ۔اسپورٹس بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے اور استعمال کو یقینی طور پرشفاف بنایا جائے ۔تعلیمی اداروں میں کھیل لازمی مضمون کے طور پر بحال کیے جائیں ۔نوجوانوں کے لیے صحت مند اور مثبت سرگرمیوں پر مبنی قومی اسپورٹس پالیسی بنائی جائے ۔کھیلوں کے میدانوں پر ناجائز قبضے فوری طور پر ختم کراکر عوام کے لیے کھولے جائیں ۔مرکزی شوریٰ نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ساڑھے 8 کروڑ مزدوروں میں سے 83 فیصد دیہاڑی دار اور غیر رسمی (Informal) سیکٹر سے وابستہ ہیں جو مکمل طور پر لیبر قوانین، سماجی تحفظ اور ریاستی کی طرف سے فلاح وبہبود سے محروم ہیں جبکہ بقیہ 17 فیصد فارمل سیکٹر کے وہ مزدور جو لیبر قوانین، سوشل سیکورٹی، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (EOBI) اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے دائرہ کار میں آتے ہیں، انہیں بھی عملاً ان کے آئینی و قانونی حقوق اور مراعات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یہ اجلاس واضح کرتا ہے کہ مذکورہ اداروں کے فنڈز کنٹری بیوٹری ہیں، یہ حکومت کے بجٹ کا حصہ نہیں بلکہ مزدوروں اور آجران کی مشترکہ رقوم پر مشتمل ہیں، جن میں وسیع پیمانے پر کرپشن، بدانتظامی اور غیر شفاف غیر قانونی استعمال ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان فنڈز کو ’’یتیم کا مال‘‘ سمجھ کر لوٹا جا رہا ہے اور مؤثر احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں۔اجلاس اس حقیقت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا کے یونین سازی کا دائرہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔ مستقل ملازمتوں کے بجائے ٹھیکیداری و کنٹریکٹ نظام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔اس نظام کے تحت مزدوروں کو اجتماعی سودے بازی، پنشن، سوشل سیکورٹی، طبی سہولیات اور ملازمت کے تحفظ جیسے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔کام کی جگہوں پر حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور حفاظتی آلات کی عدم فراہمی کے باعث حادثات، قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور معذور افراد کی بڑھتی تعداد نہایت تشویشناک ہے۔یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ کم از کم اجرت پر ملک کے تقریباً 90 فیصد اداروں میں عمل درآمد نہیں ہو رہا۔اوقاتِ کار، اوور ٹائم، ہفتہ وار چھٹی اور چھٹیوں کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔لیبر قوانین میں حالیہ منفی قانون سازی مزدور استحصال میں مزید اضافے کا سبب بنے گی۔خصوصاً یہ اجلاس پنجاب لیبر کوڈ کی 4 فروری کو عجلت میں منظوری کی شدید مذمت کرتا ہے، جس میںسہ فریقی مشاورتی عمل (حکومت، آجر، مزدور) کو نظر انداز کیا گیا۔حقیقی مزدور نمائندوں اور ملک کی سب سے بڑی مزدور فیڈریشن کو دانستہ طور پر شامل نہیں کیا گیا۔اس اقدام کے ذریعے نہ صرف آئین پاکستان بلکہ آئی ایل او کنونشنز کی صریح خلاف ورزی کی گئی۔یہ اجلاس اس امر پر بھی تشویش ظاہر کرتا ہے کہ کم آمدنی کے باعث مزدور طبقہ مناسب خوراک سے محروم،صحت کے سنگین مسائل کا شکار ہے اور اور ان کے بچے تعلیم و صحت کی بنیادی سہولتوں سے پہلے ہی محروم ہیں۔اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام مزدوروں کو لیبر قوانین اور سماجی تحفظ کے دائرہ میں لایا جائے۔سوشل سیکورٹی، EOBI اور ورکرز ویلفیئر فنڈز میں کرپشن کا فوری خاتمہ اور شفاف احتساب کیا جائے۔ٹھیکیداری نظام کو محدود کر کے مستقل روزگار کو فروغ دیا جائے۔کم از کم اجرت، اوقاتِ کار اور حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔یونین سازی اور اجتماعی سودے بازی کے حق کو آئینی تحفظ دیا جائے۔مزدور دشمن قوانین، بالخصوص پنجاب لیبر کوڈ، کو واپس لے کر ازسرنو مشاورت کی جائے۔تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں کو نجکاری سے نکال کر عوامی حق بنایا جائے۔دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور دولت کے ارتکاز کا خاتمہ کیا جائے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ لیبر قوانین مطالبہ کیا بنایا جائے جا رہا ہے میں کھیل یہ اجلاس کرتا ہے کھیل کے دیا جا کیا ہے

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی